وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی

وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی
بہت خیال رکھا تھا بہت وفا کی تھی
سنا ہے ان دنوں ہم رنگ ہیں بہار اور آگ
یہ آگ پھول ہو میں نے بہت دعا کی تھی
نہیں تھا قرب میں بھی کچھ مگر یہ دل ، مرا دل
مجھے نہ چھوڑ ، بہت التجا کی تھی
سفر میں کشمکش مرگ و زیست کے دوران
نجانے کس نے مجھے زندگی عطا کی تھی
سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
یہ اور بات کہ اک خلق اشتراکی تھی
یہ ابتدا تھی کہ میں نے اسے پکارا تھا
وہ آ گیا تھا ظفر اس نے انتہا کی تھی

0 تبصرہ جات:

Post a Comment