ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو

ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو
جھلک اُس آنکھ کی دکھلا کے ستارہ مجھ کو
ہوں میں وہ شمع سرِ طاق جلا کر سرِ شام
بھول جاتا ہے مرا انجمن آرا مجھ کو
رائگاں وسعتِ ویراں میں یہ کھلتے ہوئے پھول
ان کو دیکھوں تو یہ دیتے ہیں سہارا مجھ کو
میری ہستی ہے فقط موجِ ہوا، نقشِ حباب
کوئی دم اور کریں آپ گوارا مجھ کو
دام پھیلاتی رہی سود و زیاں کی یہ بساط
ہاں مگر میرے جنوں نے نہیں ہارا مجھ کو
کچھ شب و روز و مہ و سال گزر کر مجھ پر
وقت نے تا بہ ابد خود پہ گزرا مجھ کو
موجِ بے تاب ہوں میں ، میرے عناصر ہیں کچھ اور
چاہئے صحبتِ ساحل سے کنارا مجھ کو
رزق سے میرے مرے دل کو ہے رنجش خورشید
آسمانوں سے زمینوں پہ اُتارا مجھ کو

0 تبصرہ جات:

Post a Comment