یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
پیام بَر نہ میّسر ہوا، تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
میری طرح سے مَہ و مِہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
جو دیکھتے تیری زنجیر زلف کا عالَم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے
ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے
دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے
یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے

اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا

اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
اس کی آواز کا منتظر تھا نگر ، چاند خاموش تھا
کون تھا جس کی آہوں کے غم میں ہوا سرد تھی شہر کی
کس کی ویران آنکھوں کا لے کے اثر، چاند خاموش تھا
وہ جو سہتا رہا رت جگوں کی سزا چاند کی چاہ میں
مرگیا تو نوحہ کناں تھے شجر، چاند خاموش تھا
اس سے مل کے میں یوں خامشی اور آواز میں قید تھا
اک صدا تو مرے ساتھ تھی ہم سفر ، چاند خاموش تھا
کل کہیں پھر خدا کی زمیں پر کوئی سانحہ ہوگیا
میں نے کل رات جب بھی اٹھائی نظر ، چاند خاموش تھا

شکل اس کی تھی دلبروں جيسی

شکل اس کی تھی دلبروں جيسی
خو تھي ليکن ستمگروں جيسی
اس کے لب تھے سکوت کے دريا
اس کی آنکھيں سخنوروں جيسی
ميری پرواز جاں ميں حائل ہے
سانس ٹوٹے ہوئے پروں جيسی
دل کي بستی ميں رونقيں ہيں مگر
چند اجڑے ہوئے گھروں جيسی
کون ديکھے گا اب صليبوں پر
صورتيں وہ پيمبروں جيسی
ميری دنيا کے بادشاہوں کی
عادتيں ہيں گداگروں جيسی
رخ پہ صحرا ہيں پياس کے محسن
دل ميں لہريں سمندروں جيسی

آخری بار ملو

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل
راکھ ہوجائیں، کوئی اور تقاضا نہ کریں
چاک وعدہ نہ سِلے، زخمِ تمنّا نہ کِھلے
سانس ہموار رہے شمع کی لَو تک نہ ہِلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گِن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئی اُمید تو آنکھیں چھن جائیں
اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں
جس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و جنوں کا، نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدید وفا کا، نہ شکایات کا وقت
لُٹ گئی شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوح کہیے
آج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھے
کل سے جو ہو گا اُسے کون سا رشتہ کہیے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار، مِلو
ماتمی ہیں دِم رخصت درو دیوار، ملو
پھر نہ ہم ہوں گے، نہ اقرار، نہ انکار، مِلو
آخری بار مِلو

قرار ہجر میں اس کے شراب میں نہ ملا

قرار ہجر میں اس کے شراب میں نہ ملا
وہ رنگ اس گل رعنا کا خواب میں نہ ملا
عجب کشش تھی نظر پر سراب صحرا سے
گہر مگر وہ نظر کا اس آب میں نہ ملا
بس ایک ہجرت دائم گھروں زمینوں سے
نشان مرکز دل اضطراب میں نہ ملا
سفر میں دھوپ کا منظر تھا اور سائے کا اور
ملا جو مہر میں مجھ کو سحاب میں نہ ملا
ہوا نہ پیدا وہ شعلہ جو علم سے اٹھتا
یہ شہر مردہ صحیفوں کے باب میں نہ ملا
مکاں بنا نہ یہاں اس دیار شر میں منیر
یہ قصر شوق نگر کے عذاب میں نہ ملا

جتنی دعائیں آتی تھیں

جتنی دعائیں آتی تھیں
سب مانگ لیں ہم نے
جتنے وظیفے یاد تھے سارے
کر بیٹھے ہیں
کئی طرح سے جی کر دیکھا ہے
کئی طرح سے مر بیٹھے ہیں
لیکن جاناں
کسی بھی صورت
تم میرے ہو کر نہیں دیتے

حال دل جس نے سنا گریہ کیا

حال دل جس نے سنا گریہ کیا
ہم نہ روئے ہا ں ترا کہنا کیا
یہ تو اک بے مہر کا مذکورہ ہے
تم نے جب وعدہ کیا ایفا کیا
پھر کسی جان وفا کی یاد نے
اشک بے مقدور کو دریا کیا
تال دو نینوں کے جل تھل ہو گئے
ابر رسا اک رات بھر برسا کیا
دل زخموں کی ہری کھیتی ہوئی
کام ساون کا کیا اچھا کیا
آپ کے الطاف کا چرچا کیا
ہاں دل بے صبر نے رسوا کیا

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا


کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا
کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا
تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا
بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا
ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا
دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا
اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی ، ہم کو سہی سودا تیرا
ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شعر ہوا کیا کیا تیرا
بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رُسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا
اس دل کے دريدہ دامن میں، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا
شب بيتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجير پڑی دروازے پہ
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانہ کيا
پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کریں
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ
تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ
پھر رہا ہے مرا سر گردشِ ایام کے ساتھ
سن کر نغموں میں ہے محلول یتیموں کی فغاں!
قہقہے گونج رہے ہیں یہاں کہرام کے ساتھ
پرورش پاتی ہے دامانِ رفاقت میں ریا
اہلِ عرفاں کی بسر ہوتی ہے اصنام کے ساتھ
کوہ و صحرا میں بہت خوار لئے پھرتی ہے
کامیابی کی تمنا دلِ ناکام کے ساتھ
یاس آئینۂ امید میں نقاشِ الم
پختہ کاری کا تعلق ہوسِ خام کے ساتھ
شب ہی کچھ نازکشِ پرتوِ خورشید نہیں
سلسلہ تونگر کے شبستاں میں چراغانِ بہشت
وعدۂ خلدِ بریں کشتۂ آلام کے ساتھ
کون معشوق ہے ، کیا عشق ہے ، سودا کیا ہے؟
میں تو اس فکر میں گم ہوں کہ یہ دنیا ہے

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا
نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر
نئی سحر بھی کجلا گئی تو کیا ہوگا
نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھے
میں بے ادب ہوں ہنسی آگئی تو کیا ہوگا
غمِ حیات سے بے شک ہے خود کشی آسان
مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہوگا
شبابِ لالہ و گل کو پکارنے والو!
خزاں سرشتِ بہار آگئی تو کیا ہوگا
یہ فکر کر کے اس آسودگی کے ڈھوک میں
تیری خودی کو بھی موت آگئی تو کیا ہوگا
خوشی چھنی ہے تو غم کا بھی اعتماد نہ کر
جو روح غم سے بھی اکتا گئی تو کیا ہوگا

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جیسے
لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے
موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے
ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے
ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے
زندگی بیت رہی ہے دانش
اک بے جرم سزا ہو جیسے

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لیے
بندھا ہوا ہے اب بہاروں کا وہاں تانتا
جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کےلیے
کبھی ہماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لیے
کنویں میں پھینک کے پچھتا رہا ہوں دانش
کمند جو تھی مناروں پہ ڈالنے کے لیے

جمہوریت

اس راز کو اک مرد فرنگي نے کيا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہيں کرتے
جمہوريت اک طرز حکومت ہے کہ جس ميں
بندوں کو گنا کرتے ہيں ، تولا نہيں کرتے

غلاموں کے لیے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھايا ہے مجھے
ايک نکتہ کہ غلاموں کے ليے ہے اکسير
دين ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ، سلطاني ہو
ہوتے ہيں پختہ عقائد کي بنا پر تعمير
حرف اس قوم کا بے سوز ، عمل زار و زبوں
ہو گيا پختہ عقائد سے تہي جس کا ضمير

جہاد

فتوي ہے شيخ کا يہ زمانہ قلم کا ہے
دنيا ميں اب رہي نہيں تلوار کارگر
ليکن جناب شيخ کو معلوم کيا نہيں؟
مسجد ميں اب يہ وعظ ہے بے سود و بے اثر
تيغ و تفنگ دست مسلماں ميں ہے کہاں
ہو بھي، تو دل ہيں موت کي لذت سے بے خبر
کافر کي موت سے بھي لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کي موت مر
تعليم اس کو چاہيے ترک جہاد کي
دنيا کو جس کے پنجہ خونيں سے ہو خطر
باطل کي فال و فر کي حفاظت کے واسطے
يورپ زرہ ميں ڈوب گيا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہيں شيخ کليسا نواز سے
مشرق ميں جنگ شر ہے تو مغرب ميں بھي ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زيبا ہے کيا يہ بات
اسلام کا محاسبہ، يورپ سے درگزر!

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامي ہے نام

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامي ہے نام
مکر و فن خواجگي کاش سمجھتا غلام!
شرع ملوکانہ ميں جدت احکام ديکھ
صور کا غوغا حلال، حشر کي لذت حرام!
اے کہ غلامي سے ہے روح تري مضمحل
سينۂ بے سوز ميں ڈھونڈ خودي کا مقام

ضمير مغرب ہے تاجرانہ، ضمير مشرق ہے راہبانہ

ضمير مغرب ہے تاجرانہ، ضمير مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، يہاں بدلتا نہيں زمانہ
کنار دريا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز محرمانہ
سکندري ہو، قلندري ہو، يہ سب طريقے ہيں ساحرانہ
حريف اپنا سمجھ رہے ہيں مجھے خدايان خانقاہي
انھيں يہ ڈر ہے کہ ميرے نالوں سے شق نہ ہو سنگ آستانہ
غلام قوموں کے علم و عرفاں کي ہے يہي رمز آشکارا
زميں اگر تنگ ہے تو کيا ہے، فضائے گردوں ہے بے کرانہ
خبر نہيں کيا ہے نام اس کا، خدا فريبي کہ خود فريبي
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدير کا بہانہ
مري اسيري پہ شاخ گل نے يہ کہہ کے صياد کو رلايا
کہ ايسے پرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشيانہ

نشاں يہي ہے زمانے ميں زندہ قوموں کا

نشاں يہي ہے زمانے ميں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتي ہيں ان کي تقديريں
کمال صدق و مروت ہے زندگي ان کي
معاف کرتي ہے فطرت بھي ان کي تقصيريں
قلندرانہ ادائيں، سکندرانہ جلال
يہ امتيں ہيں جہاں ميں برہنہ شمشيريں
خودي سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ يہ کتاب ہے، باقي تمام تفسيريں
شکوہ عيد کا منکر نہيں ہوں ميں، ليکن
قبول حق ہيں فقط مرد حر کي تکبيريں
حکيم ميري نواؤں کا راز کيا جانے
ورائے عقل ہيں اہل جنوں کي تدبيريں

رندوں کو بھي معلوم ہيں صوفي کے کمالات

رندوں کو بھي معلوم ہيں صوفي کے کمالات
ہر چند کہ مشہور نہيں ان کے کرامات
خود گيري و خودداري و گلبانگ 'انا الحق'
آزاد ہو سالک تو ہيں يہ اس کے مقامات
محکوم ہو سالک تو يہي اس کا 'ہمہ اوست'
خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات!

رباعیات

فراغت دے اسے کار جہاں سے
کہ چھوٹے ہر نفس کے امتحاں سے
ہوا پيري سے شيطاں کہنہ انديش
گناہ تازہ تر لائے کہاں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دگرگوں عالم شام و سحر کر
جہان خشک و تر زير و زبر کر
رہے تيري خدائي داغ سے پاک
مرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غريبي ميں ہوں محسود اميري
کہ غيرت مند ہے ميري فقيري
حذر اس فقر و درويشي سے، جس نے
مسلماں کو سکھا دي سر بزيري
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرد کي تنگ داماني سے فرياد
تجلي کي فراواني سے فرياد
گوارا ہے اسے نظارئہ غير
نگہ کي نا مسلماني سے فرياد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا اقبال نے شيخ حرم سے
تہ محراب مسجد سو گيا کون
ندا مسجد کي ديواروں سے آئي
فرنگي بت کدے ميں کھو گيا کون؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
خودي تيري مسلماں کيوں نہيں ہے
عبث ہے شکوۂ تقدير يزداں
تو خود تقدير يزداں کيوں نہيں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھي دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھي دريا کے سينے ميں اتر کر
کبھي دريا کے ساحل سے گزر کر
مقام اپني خودي کا فاش تر کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کر ذکر فراق و آشنائي
کہ اصل زندگي ہے خود نمائي
نہ دريا کا زياں ہے، نے گہر کا
دل دريا سے گوہر کي جدائي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرد ديکھے اگر دل کي نگہ سے
جہاں روشن ہے نور 'لا الہ' سے
فقط اک گردش شام و سحر ہے
اگر ديکھيں فروغ مہر و مہ سے

 

آواز غيب

آتي ہے دم صبح صدا عرش بريں سے
کھويا گيا کس طرح ترا جوہر ادراک!
کس طرح ہوا کند ترا نشتر تحقيق
ہوتے نہيں کيوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک
تو ظاہر و باطن کي خلافت کا سزاوار
کيا شعلہ بھي ہوتا ہے غلام خس و خاشاک
مہر و مہ و انجم نہيں محکوم ترے کيوں
کيوں تري نگاہوں سے لرزتے نہيں افلاک
اب تک ہے رواں گرچہ لہو تيري رگوں ميں
نے گرمي افکار، نہ انديشہ بے باک
روشن تو وہ ہوتي ہے، جہاں بيں نہيں ہوتي
جس آنکھ کے پردوں ميں نہيں ہے نگہ پاک
باقي نہ رہي تيري وہ آئينہ ضميري
اے کشتۂ سلطاني و ملائي و پيري

کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے

کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
وہ مجھے ملے تو لیکن، ملے صورتیں بدل کر
یہ وفا کی سخت راہیں، یہ تمہارے پائے نازک
نہ لو انتقام مجھ سے، مرے ساتھ ساتھ چل کے
وہی آنکھ بے بہا ہے جو غمِ جہاں میں روئے
وہی جام جامِ ہے جو بغیرِ فرق چھلکے
یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں
تُو جلا وہ شمع اے دل! جو بجھے کبھی نہ جل کے
نہ تو ہوش سے تعارف، نہ جنوں سے آشنائی
یہ کہاں پہنچ گئے ہم تری بزم سے نکل کے
کوئی اے خمار ان کو مرے شعر نذر کر دے
جو مخالفینِ مخلص نہیں معترف غزل کے

بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمھاری ہے
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے
ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے
خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امید واری ہے

اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل

اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل

زنہار! اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

میری سنو، جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

ساقی، بہ جلوہ، دشمنِ ایمان و آگہی

مُطرب، بہ نغمہ، رہزنِ تمکین و ہوش ہے

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط

دامانِ باغبان و کفِ گُل فروش ہے

لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ

یہ جنتِ نگاہ، وہ فردوسِ گوش ہے

یا صبح دم جو دیکھیے آ کر، تو بزم میں

نے وہ سُرور و سُور، نہ جوش و خروش ہے

داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی

اک شمع رہ گئی ہے، سو وہ بھی خموش ہے

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں

غالب! صریرِ خامہ، نواے سروش ہے

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اُس کے لب کی کیا کہئیے
پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے
میر اُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چپ چاپ کے رستے بھی رہیں گے لا علم
چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
میں نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی میں کیے
جیسے طوفاں میں چھوڑ دے گھر شام کے بعد
شام سے پہلے وہ مست اپنی اڑانوں میں رہا
جس کے ہاتھوں میں تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد
رات بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچا
کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد
تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
تو کسی روز میرے گھر میں اتر شام کے بعد
لوٹ آئے نہ کسی روز وہ آوارہ مزاج
کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
تو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے
وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم
وہ گنگنائے تو باد صبا ٹھہر جائے
سبک خرام صبا چال چل پڑے جب بھی
ہزار پھول سر راہ آ ٹھہر جائے
وہ ہونٹ ہونٹوں پہ رکھ دے اگر دم آخر
مجھے گماں ہے کہ آئی قضا ٹھہر جائے
میں اس کی آنکھوں میں جھانکوں تو جیسے جم جاؤں
وہ آنکھ جھپکے تو چاہوں ذرا ٹھہر جائے

کہا میں نے کہاں ہو تم

کہا میں نے کہاں ہو تم
جواب آیا جہاں ہو تم
میرے جیون سے ظاہر ہو
میرے غم میں نہاں ہو تم
میری تو ساری دنیا ہو
میرا سارا جہاں ہو تم
میری سوچوں کے محور ہو
میرا زور بیاں ہو تم
میں لفظ محبت ہوں
مگر میری زباں ہو تم

لاکھ دوری ہو مگر عہد نبھاتے رہنا


لاکھ دوری ہو مگر عہد نبھاتے رہنا
جب بھی بارش ہو میرا سوگ مناتے رہنا
تم گئے ہو تو سر شام یہ عادت ٹھہری
بس کنارے پہ کھڑے ہاتھ ہلاتے رہنا
جانے اس دل کو یہ آداب کہاں سے آئے
اس کی راہوں میں نگاہوں کو بچھاتے رہنا
ایک مدت سے یہ معمول ہوا ہے اب تو
آپ ہی روٹھنا اور آپ مناتے رہنا
تم کو معلوم ہے فرحت کہ یہ پاگل پن ہے
دور جاتے ہوئے لوگوں کو بلاتے رہنا

میں یہاں اور تو وہاں جاناں


میں یہاں اور تو وہاں جاناں
درمیاں سات آسمان جاناں
ہم نہیں ہوں گے اور دنیا کو
تو سنائے گا داستاں جاناں
دیکھنے میں تو کچھ نہیں لیکن
اک زمانہ ہے درمیاں جاناں
رو رہے پرند شاخوں پر
جل گیا ہو گا آشیاں جاناں
اور اک محبت میرا اثاثہ ہے
اور اک ہجر بہ کراں جاناں
یہ تو سوچا نہ تھا کبھی آنسو
ایسے جائیں گے رائیگاں جاناں
میں تیرے بارے میں کچھ غلط کہہ دوں
کٹ نہ جائے میری زباں جاناں

سمے سمے کی خلش میں تیرا ملال رہے

سمے سمے کی خلش میں تیرا ملال رہے
جُدائیوں میں بھی یوں عالم وصال رہے
اَنا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے
رہِ جنوں میں یہی زادِ راہ ہوتا ہے
کہ جستجو بڑھے دیوانگی بحال رہے
حسین راتیں بھی مہکیں تمہاری یادوں سے
کڑے دنوں میں بھی پَل پَل تیرا خیال رہے
تُو ایک بار ذرا کشتیاں جلا تو سہی
ہے کیا مجال کہ اِک لمحہ بھی زوال رہے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے


ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگِیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہِ شہرِ تمنا
مقدور نہیں صبح، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گِلہ ہم سفروں سے
جِس رہ سے چلے تیرے درو بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کُوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ، ادا دشتِ جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂِ انجام ہی آئے

پھر کوئی نیا زخم، نیا درد عطا ہو

پھر کوئی نیا زخم، نیا درد عطا ہو
اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہوتا
شعلہ تیرے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
کب عشق کیا، کس سے کیا، جھوٹ ہے یارو
بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو
اب میری غزل کا بھی تقاضہ ہے یہ تجھ سے
انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں
ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں
موسمِ گل ہو کہ پت چھڑ ہو بلا سے اپنی
ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں
ہم سے مخفی نہیں کچھ راہگزرِ شوق کا حال
ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں
ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزا ہی کچھ اور
ایسی لذّت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں
نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے
ہم بھی ایسی ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں
موسم کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو
کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں

وہ کہتے ہيں رنجش کي باتيں بھُلا ديں

وہ کہتے ہيں رنجش کي باتيں بھُلا ديں
محبت کريں، خوش رہيں، مسکراديں
غرور اور ہمارا غرور محبت
مہ و مہر کو ان کے در پر جھکا ديں
جواني ہوگر جاوداني تو يا رب
تري سادہ دنيا کو جنت بناديں
شب وصل کي بےخودي چھارہي ہے
کہوتو ستاروں کي شمعيں بجھاديں
بہاريں سمٹ آئيں کِھل جائيں کلياں
جو ہم تم چمن ميں کبھي مسکراديں
وہ آئيں گے آج اے بہار محبت
ستاروں کے بستر پر کلياں بچھاديں
بناتا ہے منہ تلخئ مے سے زاہد
تجھے باغ رضواں سے کوثر منگا ديں
تم افسانہ قيس کيا پوچھتے ہو
آؤ ہم تم کوليليٰ بنا ديں
انہيں اپني صورت پہ يوں کب تھا
مرے عشق رسوا کو اختر دعا ديں

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا


دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا
درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا
کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں
غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا
چاند کے پہلو میں دم سادھ کے روتی ہے کرن
آج تاروں فُسوں خاک نظر آئے گا
راکھ میں آگ بھی ہے غمِ محرومی کی
راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا
وقت خاموش ہے رُوٹھے ہوئے یاروں کی طرح
کون لو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا
دھوپ کو دیکھ کے اس جسم پہ پڑتی ہے چمک
چھاؤں دیکھیں گے تو اس زلف کا دھیان آئے گا
زندگی چل کہ زرا موت کا دم خم دیکھیں
ورنہ یہ جذبہ لحد تک ہمیں لے جائے گا

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں 
آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں، دل کو سمجھاتا ہوں میں

تمہاری یاد کا اب تک چراغ جلتا ہے

تمہاری یاد کا اب تک چراغ جلتا ہے
عجیب شدتِ غم ہے کہ داغ جلتا ہے
میں پھول پھول بچاتا جھلس گیا آخر
عجیب رت ہے کہ سارا ہی باغ جلتا ہے
خدا کے واسطے روکو نہ مجھ کو رونے دو
وگرنہ شعلۂ دل سے دماغ جلتا ہے
میں تیز اڑان میں جاتا ہوں آسماں کی طرف
مگر یہ جسم کہ پیشِ سراغ جلتا ہے
شباب چیز ہے ایسی کہ اُف مری توبہ !
کہ جیسے رنگ سے مے کے ایاغ جلتا ہے
گرمی ہے سعد وہی برق آسمانوں سے
کہ جس سے شعلہ نکلتا ہے زاغ جلتا ہے

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا ساری کہانی ختم ہوئی

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا ساری کہانی ختم ہوئی
تم نے جب احساس دلایا ساری کہانی ختم ہوئی
تم ہی نہیں ہو دشمن اپنے ہم بھی ہیں کچھ ایسے ہی
ہم نے خود جب دل کو جلایا ساری کہانی ختم ہوئی
ساری باتیں ٹھیک تھیں تیری تو میرا میں تیرا تھا
اور مفاد جہاں ٹکرایا ساری کہانی ختم ہوئی
دھوپ کے ساتھ تھا سایہ اپنی جو اپنی پہچان بنا
شام ہوئی تو چھپ گیا سایہ ساری کہانی ختم ہوئی
باغِ ارم میں تنہا تھے ہم اپنی فکر و فہم کے ساتھ
آنچل جب کوئی لہرایا ساری کہانی ختم ہوئی
ہم دنیا کو ٹھکرا دیتے لیکن ہم سے دیر ہوئی
ہم کو دنیا نے ٹھکرایا ساری کہانی ختم ہوئی

کتنی آوازیں ہیں جن سے میں نہیں بچ سکتا

کتنی آوازیں ہیں جن سے میں نہیں بچ سکتا
ایسے لگتا ہے کہ محفوظ ہے سب کچھ سر میں
کچھ بھی سوچو وہ سماعت پہ گراں لگتا ہے
ہر گھڑی بنتا بگڑتا یہ مکاں لگتا ہے
سال خوردہ سا ہر اک جذبہ جواں لگتا ہے
ایک پتھر سا تہِ آب رواں لگتا ہے
جتنا ظاہر ہے وہ اتنا ہی نہاں لگتا ہے
اور پھر تیر سا لگتا ہے کلیجے میں میرے
اس کا ابرو مجھے اب تک بھی کماں لگتا ہے
ایک پتلی پہ سمٹتا یہ جہاں لگتا ہے
سعد مانو کہ حقیقت نہیں مر سکتی کبھی
اس حقیقت کے قریں میرا گماں لگتا ہے
کوئی بارش سی اتر آتی ہے سینے پہ میرے
بھر جدائی کا وہی پہلا سماں لگتا ہے

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا
جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا
تو برسوں میں ملے ہے، یاں فکر یہ رہے ہے
جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا
کیا ہے جو اُٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے
قیدِ حیات میں ہے تو میر آ رہے گا

مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز

مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز
ہوچکے حشر، میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز
اشک کی لغزشِ مستانہ پہ مت کیجو نظر
دامنِ دیدۂ گریاں سے مرا پاک ہنوز
بعد مرنے کے بھی آرام نہیں میر مجھے
اُس کے کوچے میں ہے پامال مری خاک ہنوز

بے کلی، بے خودی کچھ آج نہیں

بے کلی، بے خودی کچھ آج نہیں
ایک مدت سے وہ مزاج نہیں
درد اگر یہ ہے تو مجھے بس ہے
اب دوا کی کچھ احتیاج نہیں
ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن
مرضِ عشق کا علاج نہیں
شہرِ خوبی کو خوب دیکھا میر
جنسِ دل کا کہیں رواج نہیں

ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے

ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے
مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جييسا ہے
يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات
مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے
مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار
ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے
بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے
تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر
کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے
تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ
ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر
مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے
ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کي لکير تھي

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کي لکير تھي
قاتل کے ہاتھ ميں تو حنا کي لکير تھي
خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا
ميرے لبوں پہ حرف دعا کي لکير تھي
ميں کارواں کي راہ سمجھتا رہا جسے
صحرا کي ريت پر وہ ہوا کي لکير تھي
سورج کو جس نے شب کے اندھيروں ميں گم کيا
موج شفق نہ تھي وہ قضا کي لکير تھي
گزرا ہے سب کو دشت سے شايد وہ پردہ دار
ہر نقش پا کے ساتھ ردا کي لکير تھي
کل اس کا خط ملا کہ صحيفہ وفا کا تھا
محسن ہر ايک سطر حيا کي لکير تھي

آہٹ سي ہوئي تھي نہ کوئي برگ ہلا تھا

آہٹ سي ہوئي تھي نہ کوئي برگ ہلا تھا
ميں خود ہي سر منزل شب چيخ پڑا
لمحوں کي فصيليں بھي مرے گرد کھڑي تھيں
ميں پھر بھي تجھے شہر ميں آوارہ لگا تھا
تونے جو پکارا ہے تو بول اٹھا ہوں، ورنہ
ميں فکر کي دہليز پہ چپ چاپ کھڑا تھا
پھيلي تھيں بھرے شہر ميں تنہائي کي باتيں
شايد کوئي ديوار کے پيچھے بھي کھڑا تھا
اب اس کے سوا ياد نہيں جشن ملاقات
اک ماتمي جگنو مري پلکوں پہ سجا تھا
يا بارش سنگ اب کے مسلسل نہ ہوئي تھي
يا پھر ميں ترے شہر کي راہ بھول گيا تھا
ويران نہ ہو اس درجہ کوئي موسم گل بھي
کہتے ہيں کسي شاخ پہ اک پھول کھلا تھا
اک تو کہ گريزاں ہي رھا مجھ سے بہر طور
اک ميں کہ ترے نقش قدم چوم رہا تھا
ديکھا نہ کسي نے بھي مري سمت پلٹ کر
محسن ميں بکھرتے ہوئے شيشوں کي صدا تھا

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دلنوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
یہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوئے پرائے ہیں
مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں‌کے سائے ہیں
تعارف روگ ہو جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے تکمیل تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ‌دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
دل لے کے مفت کہتے ہیں کہ کام کا نہیں
اُلٹی شکایتیں ہوئیں، احسان تو گیا
دیکھا ہے بُت کدے میں جو اے شیخ، کچھ نہ پوچھ
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا
افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اُسے جتا تو دیا، جان تو گیا
گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا، پر ہزار شکر
مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا
بزمِ عدو میں صورت پروانہ دل میرا
گو رشک سے جلا تیرے قربان تو گیا
ہوش و ہواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

لے چلا جان مري روٹھ کے جانا تيرا

لے چلا جان مري روٹھ کے جانا تيرا
ايسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تيرا
تو جو اے زلف پريشان رہا کرتي ہے
کس کے اجڑے ہوئے دل ميں ہے ٹھکانا تيرا
اپني آنکھوں ميں کوند گئي بجلي سي
ہم نہ سمجھے کہ يہ آنا ہے کہ جانا تيرا

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
عشق کی مغفرت کی دعا کیجیے
اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے
جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے
دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے
سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے
آپ سُکھ سے ہیں ترکِ تعلق کے بعد
اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے
زندگی کٹ‌رہی ہے بڑے چین سے
اور غم ہوں تو وہ بھی عطا کیجیے
کوئی دھوکا نہ کھا جائے میری طرح
ایسے کھُل کے نہ سب سے ملا کیجیے
عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار
عقل کی سُنیے، دل کا کہا کیجیے

بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے

بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
جاتے ہوئے لمحوں کو صدائیں نہیں دیتے
مانا یہی فطرت ہے مگر اس کو بدل دو
بدلے میں وفاؤں کے جفائیں نہیں دیتے
گر پھول نہیں دیتے تو کاٹتے بھی تو مت دو
مُسکان نہ دینی ہو تو آہیں نہیں دیتے
تم نے جو کیا، اچھا کیا، ہاں یہ گلا ہے
منزل نہ ہو جس کی تو وہ راہیں نہیں دیتے
یہ بار کہیں خود ہی اُٹھانا نہ پڑے کل
اوروں کو بچھڑنے کی دعائیں نہیں دیتے

اَنا کی بات جانے دو

اَنا کی بات جانے دو
اَنا تو اس گھڑی ہم نے گنوا دی تھی
تمھیں جس پل کہا اپنا
ہتھیلی پر تمھارا نام لکھا تھا، حنا سے جس گھڑی ہم نے
تمھیں پلکوں پہ حیرت کی جگہ ہم نے سجایا تھا
ہمیں ہم سے ہی جب تم نے چرایا تھا
تمھیں جب دل نے دھڑکن میں بسایا تھا،
تمھیں اپنا بنایا تھا
” ہمیں تم سے محبت ہے“
تمھیں سرگوشیوں میں جس گھڑی ہم نے بتایا تھا
اَنا کی بات جانے دو
اَنا تو اس گھڑی ہم نے گنوا دی تھی
اَنا کی بات جانے دو

محبت بھول جاؤ تم

یہ تم نے کیا کیا؟
پتھر کے بُت میں دھڑکنوں کو کھوجنا چاہا
یہ تم نے دل کی دھڑکن میں،
پرایا گیت لکھ ڈالا
خود اپنے ہاتھ سے اپنے ہی ماتھے کو،
سیاہی سے کیا کالا
محبت اس جہاں کی شے نہیں،
میں نے کہا تھا
اب اس شے کی تجارت ہو رہی ہے جس طرف دیکھو
مری باتوں پہ اب وشواس تم کو آگیا ہوگا؟
چلو، اشکوں سے سارے خواب دھو ڈالو
سُنو، جو تمھارا ہاتھ مانگے آج سے تم اس کے ہو جاؤ
محبت بھول جاؤ تم۔۔۔۔ محبت بھول جاؤ تم

بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے

بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے
ہم کہاں سوچ بھی سکتے تھے کے ایسا کرتے
عمر بھر کچھ بھی تو اپنے لیے ہم نے کیا!
آج فرصت جو ملی ہم کو تو سوچا، کرتے
ہم تو اس کھیل کا حصہ تھے ازل سے شاید
سو تماشہ جو نہ بنتے تو تماشہ کرتے
دل کو تسکین ہی مل جاتی ذرا سی اس سے
نہ نبھاتے چلو تم کوئی تو وعدہ کرتے
جوڑنے میں تو یہ پوریں بھی لہو کر ڈالیں
کرچیوں کو جو نہ چھوتے تو یہ اچھا کرتے
بھول جانے کا ارادہ بھی ارادہ ہی رہا
جان پر بن ہی تو جاتی جو ہم ایسا کرتے
اس اماوس نے کیے قتل کئی چاند بتول
ہم اُجالے کی کہاں اِس سے تمنا کرتے

یہی اب کام کرنا ہے

ستاروں سے کہو
اب رات بھر ہم ان سے باتیں کر نہیں سکتے
کہ ہم اب تھک گئے جاناں!
ہمیں جی بھر کے سونا ہے
کسی کا راستہ تکنے کا یارا بھی نہیں ہم کو
مسافر آگیا تو ٹھیک ہے لیکن،
نہیں آتا تو نہ آئے
ان آنکھوں میں ذرا بھی روشنی باقی نہیں شاید
وگرنہ تیرگی ہم کو یوں گھیرے میں نہیں لیتی
مگر یہ سب،
ازل سے لکھ دیا تھا لکھنے والے نے
ستاروں سے کہو، بہتر ہے ہم کو بھول ہی جائیں
ہمیں آرام کرنا ہے
ضروری کام کرنا ہے

تم نے دیکھی ہے وہ خوابوں کی راہگزر

تم نے دیکھی ہے وہ خوابوں کی راہگزر
جس کی منزل تھی اُجڑا ہوا نگر
سُر مئی شام تھی جس کے چاروں طرف
جس میں منظر جُدائی کے دے صف بہ صف
وصل کا سربکف
بن گیا کرچیاں مَن کا نازک صدف
تو نے دیکھی ہے خوابوں کی وہ راہگزر
سنگ ریزوں کی بارش ہوئی تھی جہاں
اور کومل سے جذبے ہدف بن گئے
پائمالی نے ان کو لہو کر دیا
با وُضو کر دیا۔۔۔ سُرخرو کر دیا
آج بھی جو مسافر گیا اس طرف
اس نے پایا نہیں واپسی کا نشاں
اُس کو ڈھونڈا فلک نے یہاں سے وہاں
تم نے دیکھی ہے خوابوں کی وہ راہگزر

اس کا بھی غم بہت اب معدوم ہو چکا ہے

اس کا بھی غم بہت اب معدوم ہو چکا ہے
وہ خوش ہے کھو کے ہم کو معلوم ہو چکا ہے
ہر سوچ میں وہ میری کچھ ایسے بس گیا ہے
ہر فعل میرا اس سے موسوم ہو چکا ہے
کیا بات ہو گئی ہے بادل نہیں برستا
وہ حال پر تو میرے مغموم ہو چکا ہے
رہتا ہے وہ نظر میں چاہے کہیں بھی جائے
آنکھوں میں ایک چہرہ مرقوم ہو چکا ہے
اک بار لوگ پھر سے دیوانے ہو رہے ہیں
کہتے ہیں وہ دوبارہ معصوم ہو چکا ہے
ہر شخص کہہ رہا ہے میرا اداس چہرہ
اس بے وفا کے غم کا مفہوم ہو چکا ہے
جو زندگی کے سارے دُکھ درد بانٹتا تھا
اس سائے سے صفی اب محروم ہو چکا ہے

کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی
شاید ہی کوئی آسکے اس موڑ سے آگے
اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی
وہ گل نہ رہے نکبتِ گُل خاک ملے گی
یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی
اس شورِ تلاطم میں کوئی کس کو پکارے
کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی
خوددار ہوں کیوں آؤں درِ ابلِ کرم پر
کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی
اس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو
پیڑوں سے جہاں چھن کےضیا تک نہیں آتی
یا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں
یا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی
کیا خشک ہوا روشنیوں کا وہ سمندر
اب کوئی کرن آبلہ پا تک نہیں آتی
چھپ چھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوتِ گل میں
مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی
یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا
ٹوٹی ہوئی قبروں سےصدا تک نہیں آتی
بہتر ہے پلٹ جاؤ سیہ خانۂ غم سے
اس سرد گُپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی

کچھ دن اگر یہی رہا دیوار و در کا رنگ

کچھ دن اگر یہی رہا دیوار و در کا رنگ
دیوار و در پہ دیکھنا خونِ جگر کا رنگ
بھولا نہیں ہوں مقتلِ امید کا سماں
تحلیل ہورہا تھا شفق میں سحر کا رنگ
دنیا غریقِ شعبدۂ جام جم ہوئی
دیکھے گا کون خونِ دلِ کو زہ گر کا رنگ
الجھتے ہوئے دھویں کی فضا میں ہے اک لکیر
کیا پوچھتے ہو شمع سرِ رہ گزر کا رنگ
دامانِ فصل گل پہ خزاں کی لگی ہے چھاپ
ذوقِ نظر پہ بار ہے برگ و ثمر کا رنگ
جمنے لگی شکیب جو پلکوں پہ گردِ شب
آنکھوں میں پھلینے لگا خوابِ سحر کا رنگ

اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق نہ  چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم  بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم ، تو  اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ ، یہ تازہ ستم  ایجاد نہ  کر

یوں ظلم نہ کر، بیداد  نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ  کر

جس دن سے  ملے  ہیں  دونوں  کا، سب  چین گیا، آرام گیا
چہروں سے بہار صبح گئی، آنکھوں سے فروغ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا، ہونٹوں سے ہنسی  کا نام گیا

غمگیں نہ بنا،  ناشاد  نہ  کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں، رو رو کے دعائیں کر تے ہیں
آنکھوں میں تصور، دل میں خلش، سر دھنتے ہیں آہیں بھرتےہیں
اے عشق! یہ کیسا روگ لگا، جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں؟

یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

یہ روگ لگا ہے جب  سے  ہمیں، رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش، ہر  وقت  خلش بے خواب ہوں میں،بیدار ہے وہ
جینے سے  ادھر بیزار ہوں میں،  مرنے  پہ ادھر تیار ہے وہ

اور ضبط  کہے  فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

جس دن سے بندھا  ہے دھیان ترا، گھبرائےہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر  کر  کے شرمائے  ہوئے  سے رہتے  ہیں
کملائے ہوئے پھولوں  کی طرح  کملائے ہوئے سے رہتے ہیں

پامال  نہ کر، برباد نہ  کر
اے عشق  ہمیں  برباد نہ کر

بیددر!  ذرا  انصاف تو  کر! اس عمر میں اور مغموم  ہے وہ
پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی ، تاروں  کی طرح معصوم ہے وہ
یہ حسن ، ستم! یہ رنج، غضب! مجبور ہوں میں! مظلوم ہے وہ

مظلوم  پہ  یوں  بیداد  نہ  کر
اے عشق ہمیں  برباد نہ کر

اے  عشق خدارا دیکھ کہیں ، وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو
وہ ماہ لقا بدنام نہ  ہو، وہ  زہرہ جبیں بدنام نہ  ہو
ناموس کا اس  کے  پاس  رہے،  وہ پردہ نشیں  بدنام نہ ہو

اس پردہ نشیں کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد  نہ  کر

امید کی جھوٹی جنت کے، رہ  رہ  کے  نہ  دکھلا خواب ہمیں
آئندہ کی فرضی عشرت  کے، وعدوں  سے نہ کر بیتاب  ہمیں
کہتا ہے  زمانہ  جس کو خوشی ، آتی  ہے نظر کمیاب ہمیں

چھوڑ ایسی خوشی کویادنہ کر
اے  عشق  ہمیں برباد نہ کر

کیا سمجھےتھےاور تو کیا نکلا، یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہم
ہے پہلے  پہل کا  تجربہ  اور کم عمر ہیں ہم،  انجان ہیں ہم
اے عشق ! خدارا رحم و کرم! معصوم ہیں ہم، نادان ہیں ہم

نادان  ہیں  ہم، ناشاد نہ  کر
اے عشق ہمیں برباد  نہ کر

وہ راز ہے یہ غم آہ جسے، پا  جائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سےجب آنسو بہتے ہیں، آجائے کوئی تو خیر نہیں
ظالم ہے یہ  دنیا، دل کو یہاں، بھا جائے کوئی تو  خیر نہیں

ہے ظلم مگر  فریاد  نہ  کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر

دو دن  ہی میں عہد طفلی  کے، معصوم زمانے بھول گئے
آنکھوں سےوہ خوشیاں مٹ سی گئیں، لب کووہ ترانےبھول گئے
ان  پاک بہشتی خوابوں  کے،  دلچسپ فسانے بھول گئے

ان خوابوں سے یوں آزادنہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اس جان حیا  کا بس نہیں کچھ، بے بس ہے پرائے بس میں ہے
بے درد دلوں کو کیا ہے خبر، جو  پیار  یہاں آپس میں ہے
ہے  بے بسی زہر  اور  پیار ہے  رس، یہ زہر چھپا اس رس میں ہے

کہتی ہے حیا  فریاد  نہ  کر
اے عشق ہمیں  برباد نہ کر

آنکھوں کو  یہ  کیا آزار ہوا ، ہر  جذب نہاں پر رو دینا
آہنگ  طرب پر جھک جانا، آواز فغاں  پر  رو دینا
بربط کی صدا پر رو دینا، مطرب کے  بیاں پر رو دینا

احساس کو غم بنیاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

ہر دم ابدی راحت  کا سماں  دکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر
للہ حباب  آب رواں  پر  نقش بقا تحریر نہ  کر
مایوسی کے رمتے بادل  پر  امید کے گھر تعمیر نہ  کر

تعمیر نہ کر، آباد نہ کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر

جی چاہتا ہے اک دوسرے کو  یوں  آٹھ  پہر ہم  یاد  کریں
آنکھوں  میں  بسائیں خوابوں کو، اور دل میں خیال آباد کریں
خلوت میں بھی ہوجلوت کاسماں، وحدت کودوئی سےشادکریں

یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

دنیا کا  تماشا  دیکھ  لیا، غمگین  سی ہے ، بے  تاب سی ہے
امید یہا ں اک وہم سی ہے‘ تسکین یہاں اک خواب  سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں‘ دنیا میں خوشی نایاب  سی ہے

دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں  برباد نہ کر

لازم نہیں کہ اس کو بھی میرا خیال ہو

لازم نہیں کہ اس کو بھی میرا خیال ہو
جو میرا حال ہے وہی اس کا بھی حال ہو
کچھ اور دل گداز ہوں اس شہر سنگ میں
کچھ اور پر ملال، ہوائے ملال ہو
باتیں تو ہوں کچھ تو دلوں کی خبر ملے
آپس میں اپنے کچھ تو جواب و سوال ہو
رہتے ہے آج جس میں جسے دیکھتے ہیں ہم
ممکن ہے یہ گزشتہ کا خواب و خیال ہو
سب شور شہر خاک کا ہے قرب آب سے
پانی نہ ہو تو شہر کا جینا محال ہو
معدوم ہوتی جاتی ہوئی شے ہے یہ جہاں
ہر چیز اس کی جیسے فنا کی مثال ہو
کوئی خبر خوشی کی کہیں سے ملے منیر
ان روز و شب میں ایسا بھی اک دن کمال ہو

یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں

یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں
مکاں ہے قبر، جسے لوگ خود بناتے ہیں
میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کس مزار میں ہوں
در فصیل کھلا، یا پہاڑ سر سا ہٹا
میں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگزار میں ہوں
میں ہوں بھی اور نہیں بھی، عجیب بات ہے
یہ کیسا جبر ہے میں کس کے اختیار میں ہوں
منیر دیکھ شجر، چاند اور دیواریں
ہوا خزاں کی ہے سر پر، شب بہار میں ہوں

اُن سے نین ملا کے دیکھو

اُن سے نین ملا کے دیکھو

یہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو

دوری میں کیا بھید چھپا ہے

اس کا کھوج لگا کے دیکھو

کسی اکیلی شام کی چپ میں

گیت پرانے گا کے دیکھو

آج کی رات بہت کالی ہے

سوچ کے دیپ جلا کے دیکھو

دل کا گھر سنسان پڑا ہے

دکھ کی دھوم مچا کے دیکھو

جاگ جاگ کر عمر کٹی ہے

نیند کے دوار سے جا کے دیکھو

 

جاتا ہوں سوئے دوست تمنا لئے ہوئے

جاتا ہوں سوئے دوست تمنا لئے ہوئے
رگ رگ ميں اک خلوص کي دنيا لئے ہوئے
پھر لہر ِ سبزہ زار کي دوڑي ہے خون ميں
پھر رو رہا ہوں دامن ِ صحرا لئے ہوئے
پھر جلوہ گاہ ِ ناز کي جانب بڑھا ہوں ميں
اشکوں کا چشم ِ شوق ميں دريا لئے ہوئے
سر کرنے پھر چلا ہوں مہم حسن و عشق کي
ہر سانس ميں شکست کي دنيا لئے ہوئے

جب سے مرنے کي جي ميں ٹھاني ہے

جب سے مرنے کي جي ميں ٹھاني ہے
کس قدر ہم کو شادماني ہے
شاعري کيوں نہ راس آئے مجھے
يہ مرا فن ِ خانداني ہے
کيوں لب ِ التجا کو دوں جنبش
تم نہ مانو گے، اور نہ ماني ہے
روح کيا؟ آہ کي خفيف ہوا
خون کيا؟ آنسوؤں کا پاني ہے
آپ ہم کو سکھائيں رسم ِ وفا
مہرباني ہے، مہرباني ہے
دل ملا ہے جنہيں ہمارا سا
تلخ ان سب کي زندگاني ہے
کوئي صدمہ ضرور پہونچے گا
آج کچھ دل کو شادماني ہے

تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے


تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے
انہيں اس کي نہيں پروا، کوئي مرتا ہے، مر جائے
دعا ہے ميري اے دل تجھ سے دنيا کوچ کر جائے
اور ايسي کچھ بنے تجھ پر کہ ارمانوں سے ڈر جائے
جو موقع مل گيا تو خضر سے يہ بات پوچھيں گے
جسے ہو جستجو اپني، وہ بے چارہ کدھر جائے؟
سحر کو سينہ ِ عالم ميں پر توَ ڈالنے والے
تصدق اپنے جلوے کا، مرا باطن سنور جائے
حيات ِ دائمي کي لہر ہے اس زندگاني ميں
اگر مرنے سے پہلے بن پڑے تو جوش مر جائے

گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی


گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی
دل میں رہا وہ چھوڑ کے جانے کے بعد بھی
پہلو میں رہ کے دل نے دیا ہے بہت فریب
رکھا ہے اس کو یاد بھلانے کے بعد بھی
وہ حسن ہے کسی میں نہیں تاب دید کی
پنہاں ہے وہ نقاب اٹھانے کے بعد بھی
قربت کے بعد اور بھی قربت کی ہے تلاش
دل مطمئں نہیں تیرے آنے کے بعد بھی
گو تو یہاں نہیں ہے مگر تو یہیں پہ ہے
تیرا ہی ذکر ہے تیرے جانے کے بعد بھی
ساری زمیں کا نور بھی سورج نہ بن سکا
شب ہی رہی چراغ جلانے کے بعد بھی
نارِ حسد نے دل کو جلایا ہے یوں عدیم
یہ تو نشاں رہے گا مٹانے کے بعد بھی

لگتا ہے کچھ کہا ہی نہیں ہے اسے عدیم
دل کا تمام حال سنانے کے بعد بھی

آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں

آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں
کتنے سامان ہیں اس بے سر و سامانی میں
آج بھی دیکھ لیا اس نے کہ میں زندہ ہوں
چھوڑ آیا ہوں اسے آج بھی حیرانی میں
رات پھر تا بہ سحر شاخ افق خالی تھی
چاند پھر ڈوب گیا تیری پیشانی میں
ساتھ دینا ہے تو دے چھوڑ کے جانا ہے تو جا
تو اضافہ تو نہ کر میری پریشانی میں
آسمانوں کی طرف جیسے الٹ جائیں مکان
عکس ایسے ہی نظر آئے مجھے پانی میں
یوں تو بچھنے کو بچھی چادر سیلاب مگر
لہر کچھ اور بھی عریاں ہوئی طغیانی میں
خلعت گرد اتاری تو مقابل میں تھا
آئینہ ڈوب گیا پردۂ حیرانی میں
دھوپ نکلے گی تو کہسار ہی پگھلیں گے عدیم
برف جتنی تھی و ہ سب بہ گئی طغیانی میں

جی میں جادو ہی جگاتی چلی جاتی ہے عدیم
جانے کیا شے ہے نہاں صورتِ انسانی میں

کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے


کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے
عین ممکن ہے اسے خود ہی خیال آجائے
ہجر کی شام بھی سینے سے لگا لیتا ہوں
کیا خبر یونہی کبھی شامِ وصال آ جائے
گھر اسی واسطے جنگل میں بدل ڈالا ہے
شاید ایسے ہی ادھر میرا غزال آ جائے
دھنک ابھرے سرِ افلاک کڑی دھوپ میں بھی
دشتِ وحشت میں اگر تیرا خیال آ جائے
کوئی تو اڑ کے دہکتا ہوا سورج ڈھانپے
گرد ہی سر پہ گھٹاؤں کی مثال آ جائے
چھوڑ دے وہ مجھے تکلیف میں ممکن تو نہیں
اور اگر ایسی کبھی صور تِ حال آ جائے
اس گھڑی پوچھوں گا تجھ سے یہ جہاں کیسا ہے
جب تیرے حسن پہ تھوڑا سا زوال آ جائے
کچھ نہیں ہے تو بھلانا ہی اسے سیکھ عدیم
زندگی میں تجھے کوئی تو کمال آ جائے

ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے

ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے
حال جیسا بھی ہے لوگوں کو سناؤں کیسے
خشک آنکھوں سے بھی اشکوں کی مہک آتی ہے
میں تیرے غم کو زمانے سے چھپاؤں کیسے
تیری صورت ہی میری آنکھ کا سرمایہ ہے
تیرے چہرے سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے
تو ہی بتلا میری یادوں کو بھلانے والے
میں تیری یاد کو اس دل سے بھلاؤں کیسے
پھول ہوتا تو تیرے در پہ سجا بھی رہتا
زخم لے کر تیری دہلیز پہ آؤں کیسے
آئینہ ماند پڑے سانس بھی لینے سے عدیم
اتنا نازک ہو تعلق تو نبھاؤں کیسے

وہ رلاتا ہے رلائے مجھے جی بھر کے عدیم
میری آنکھیں ہے وہ میں اس کو رلاؤں کیسے

جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے

جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے
پھر کسی اور کی کچھ بات نہ مانی دل نے
ایک وحشت سے کسی دوسری وحشت کی طرف
اب کے پھر کی ہے کوئی نقل مکانی دل نے
اب بھی نوحے ہیں جدائی کے وہی ماتم ہے
ترک کب کی ہے کوئی رسم پرانی دل نے
بات بے بات جو بھر آتی ہیں آنکھیں اپنی
یاد رکھی ہے کسی دکھ کی کہانی دل نے
ڈوبتی شام کے ویران سمے کی صورت
تھام رکھی ہے تیری ایک نشانی دل نے

یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے

یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے
پردیس میں غم ناک خبر آتی ہے جیسے
آتی ہے تیرے بعد خوشی بھی تو کچھ ایسے
ویران درختوں پہ سحر آتی ہے جیسے
لگتاہے ابھی دل نے تعلق نہیں توڑا
یہ آنکھ تیرے نام پہ بھر آتی ہے جیسے
خود آپ ہوا روز ا ٹھاتی ہے دعائیں
اور آپ کہیں دفن بھی کر آتی ہے جیسے
اک قافلۂ ہجر گذرتا ہے نظر سے
اور روح تلک گرد سفر آتی ہے جیسے
جلتا ہے کوئی شہر کبھی دامن دل میں
سانسوں میں کبھی راکھ اتر آتی ہے جیسے

کیا ضروری ہے کہ ہاتھوں میں تر اہاتھ بھی ہو

کیا ضروری ہے کہ ہاتھوں میں تر اہاتھ بھی ہو
چند یادوں کی رفاقت ہی بہت کافی ہے

لوٹ چلتے ہیں اسی پل سے گھروں کی جانب
یہ تھکن اتنی مسافت ہی بہت کافی ہے

یونہی تنہا تنہا نہ خاک اُڑا، مری جان میرے قریب آ

یونہی تنہا تنہا نہ خاک اُڑا، مری جان میرے قریب آ
میں بھی خستہ دل ہوں تری طرح مری مان میرے قریب آ

میں سمندروں کی ہوا نہیں کہ تجھے دکھائی نہ دے سکوں
کوئی بھولا بسرا خیال ہوں نہ گمان میرے قریب آ

نہ چھپا کہ زخم وفا ہے کیا، تری آرزؤں کی کتھا ہے کیا
تری چارہ گر نہ یہ زندگی نہ جہان میرے قریب آ

تجھے ایسے ویسوں کی دوستی نے بہت خراب و خجل کیا
کسی جھوٹ کی یہ نقاب رُخ پہ نہ تان میرے قریب آ

جو نکل سکے تو نکال لے کوئی وقت اپنے لئے کبھی
مرے پاس بیٹھ کے رو تو لے کسی آن میرے قریب آ

نہ مکالمہ ہو نہ گفتگو فقط اتنا ہو کہ نہ میں نہ تو
ملیں صرف اپنے جلے ہوئے دل و جان میرے قریب آ

مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں

مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں
مری زیست کے کسی موڑ  پر جو مجھے ملا تھا بہار میں
وہی اک امید ہے آخری اسی ایک شمع سے روشنی
کوئی اور اس کے سوا نہیں, میری خواہشوں کے دیار میں
وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں, کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی
سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے مجھے تیری بانہوں کے ہار میں
یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے یہ تو صرف بخت کی بات ہے
کوئی فاصلہ تو نہیں, تیری جیت میں میری ہار میں
ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے پرے بھی کوئی جہان ہے
کسی شام کوئی دیا جلا کسی دل جلے کے مزار میں
کسی چیز میں کوئی ذائقہ کوئی لطف باقی نہیں رہا
نہ تیری طلب کے گداز میں نہ میرے ہنر کے وقار میں

یہ حسیں لوگ ہیں, تو ان کی مروت پہ نہ جا

یہ حسیں لوگ ہیں, تو ان کی مروت پہ نہ جا
خود ہی اٹھ بیٹھ کسی اذن و اجازت پہ نہ جا
صورت شمع تیرے سامنے روشن ہیں جو پھول
ان کی کرنوں میں نہا, ذوق سماعت پہ نہ جا
دل سی چیک بک ہے ترے پاس تجھے کیا دھڑکا
جی کو بھا جائے کو پھر چیز کی قیمت پہ نہ جا
اتنا کم ظرف نہ بن, اس کے بھی سینے میں ہے دل
اس کا احساس بھی رکھ, اپنی ہی راحت پہ نہ جا
دیکھتا کیا ہے ٹھہر کر میری جانب ہر روز
روزن در ہوں میری دید کی حیرت پہ نہ جا
تیرے دل سوختہ بیٹھے ہیں سر بام ابھی
بال کھولے ہوئے تاروں بھری اس چھت پہ نہ جا
میری پوشاک تو پہچان نہیں ہے میری
دل میں بھی جھانک, میری ظاہری حالت پہ نہ جا

جسے آنسوؤں سے مٹائیں ہم جسے دوسروں سے چھپائیں ہم

جسے آنسوؤں سے مٹائیں ہم جسے دوسروں سے چھپائیں ہم
سو یہ خیریت رہی عمر بھر کوئی حرف ایسا لکھا نہیں
ہمیں اعتبار نہیں ملا کوئی لمحہ اپنے لئے کبھی
لکھے دوسروں کے عذاب جاں, مگر اپنا نوحہ لکھا نہیں

یہی نہیں کہ فقط ہم ہی اضطراب میں ہیں

یہی نہیں کہ فقط ہم ہی اضطراب میں ہیں
ہمارے بھولنے والے بھی اس عذاب میں ہیں
اسی خیال سے ہر شام جلد نیند آئی
کہ مجھ سے بچھڑے ہوئے لوگ شہرِ خواب میں ہیں
وہی ہے رنگِ جنوں ، ترکِ ربط و ضبط پہ بھی
تری ہی دھن میں ہیں اب تک اسی سراب میں ہیں
عزیز کیوں نہ ہو ماضی کا ہر ورق ہم کو
کہ چند سوکھے ہوئے پھول اس کتاب میں ہیں
شناوروں کی رسائی کے منتظر ساجد
ہم اپنے عہد کے اک شہرِ زیر آب میں ہیں

تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے

تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے
خدا مجھے یہ تحمل یہ حوصلہ بھی نہ دے
مرے بیان صفائی کے درمیاں مت بول
سنے بغیر مجھے اپنا فیصلہ بھی نہ دے
یہ عمر میں نے ترے نام بے طلب لکھ دی
بھلے سے دامن دل میں کہیں جگہ بھی نہ دے
یہ دن بھی آئیں گے ایسا کبھی نہ سوچا تھا
وہ مجھ کو دیکھ بھی لے اور مسکرا بھی نہ دے
یہ رنجشیں تو محبت کے پھول ہیں ساجد
تعلقات کو ا س بات پر گنوا بھی نہ دے

تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا

تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا
اب دل کو اعتبارِ ہوا بھی نہیں رہا
تو بجھ گیا تو ہم بھی فروزاں نہ رہ سکے
تو کھو گیا تو اپنا پتہ بھی نہیں رہا
کچھ ہم بھی ترے بعد زمانے سے کٹ گئے
کچھ ربط و ضبط خدا سے بھی نہیں رہا
گویا ہمارے حق میں ستم در ستم ہوا
حرفِ دعا بھی ، دستِ دعا بھی نہیں رہا
کیا شاعری کریں کہ ترے بعد شہر میں
لطف کلام ، کیفِ نوا بھی نہیں رہا

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے
سب خرد مند بنے پھرتے ہیں ہر محفل میں
اس ترے شہر میں اک صاحبِ وحشت ہم تھے
اب کسی اور کے ہاتھوں میں ترا ہاتھ سہی
یہ الگ بات کبھی اہلِ رفاقت ہم تھے
رتجگوں میں تری یاد آئی تو احساس ہوا
تیری راتوں کا سکوں نیند کی راحت ہم تھے
اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو
وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے

معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ

معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ
بچھڑے گا تو پھر یاد بھی آئے گا بہت وہ
اب جس کی رفاقت میں بہت خندہ بہ لب ہیں
اس بار ملے گا تو رلائے گا بہت وہ
چھوڑ آئے گا تعبیر کے صحرا میں اکیلا
ہر چند ہمیں خواب دکھائے گا بہت وہ
وہ موج ہوا بھی ہے ذرا سوچ کے ملنا
امید کی شمعیں تو جلائے گا بہت وہ
ہونٹوں سے نہ بولے گا پر آنکھوں کی زبانی
افسانے جدائی کے سنائے گا بہت وہ

ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا

ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھی دعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھر دعا کرنا

میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی

میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی
کوئی باغ جل رہا ہے ، یہ مگر مری دعا ہے
مرے پھول تک نہ پہنچے یہ ہوا تمازتوں کی
مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی!
یہ بہار بے دلی کی ، یہ خزاں مروتوں کی
میں قدم بام و در میں انہیں جا کے ڈھونڈتا ہوں
وہ دیار نکہتوں کے ، وہ فضائیں چاہتوں کی
کہیں چاند یا ستارے ہوئے ہم کلام مجھ سے
کہیں پھول سیڑھیوں کے ، کہیں جھاڑیاں پتوں کی
مرے کاغذوں میں شاید کہیں اب بھی سو رہی ہو
کوئی صبح گلستاں کی ، کوئی شام پربتوں کی
کہیں دشت دل میں شاید مری راہ تک رہی ہو
وہ قطار جگنوں کی ، وہ مہک ہری راتوں کی
یہ نہیں کہ دب گئی ہے کہیں گرد روز و شب میں
وہ خلش محبتوں کی ، وہ کسک رفاقتوں کی

میں جانتا تھا ایسا بھی اک دور آئے گا

میں جانتا تھا ایسا بھی اک دور آئے گا
دیوان بھی مرا ، تو ہر اک سے چھپائے گا
پوچھے گا جب کوئی ترا دکھ ، ازراہِ خلوص
تو اس کو دوسروں کے فسانے سنائے گا
جو بات بھولنے کی ہے یاد آئے گی تجھے
رکھنا ہے جس کو یاد اسے بھول جائے گا
دل سوختہ ملے گا تجھے جب کوئی کہیں
شدت سے ایک شخص تجھے یاد آئے گا
چھوڑا ہے اس کا شہر فقط اس خیال سے
جب ہم نہ ہوں گے اور وہ کس کو ستائے گا
اس نے بھی کر لیا ہے یہ وعدہ کہ عمر بھر
کچھ بھی ہو ، اب وہ دل نہ کسی کا دکھائے گا