یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
پیام بَر نہ میّسر ہوا، تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
میری طرح سے مَہ و مِہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
جو دیکھتے تیری زنجیر زلف کا عالَم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

1 تبصرہ جات:

Post a Comment