یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں

یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں
مکاں ہے قبر، جسے لوگ خود بناتے ہیں
میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کس مزار میں ہوں
در فصیل کھلا، یا پہاڑ سر سا ہٹا
میں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگزار میں ہوں
میں ہوں بھی اور نہیں بھی، عجیب بات ہے
یہ کیسا جبر ہے میں کس کے اختیار میں ہوں
منیر دیکھ شجر، چاند اور دیواریں
ہوا خزاں کی ہے سر پر، شب بہار میں ہوں

0 تبصرہ جات:

Post a Comment