جھنجھلائے ہیں، لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

جھنجھلائے ہیں، لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں
دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیں
ہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں
اب جا کے آہ کرنے کے آداب آئے ہیں
دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم مسکرائے ہیں
گُزرے ہیں مے کدے سے جو توبہ کے بعد ہم
کچھ دُور عادتاً بھی قدم لڑکھڑائے ہیں
اے جوشِ گریہ دیکھ! نہ کرنا خجل مجھے
آنکھیں مری ضرور ہیں، آنسو پرائے ہیں
اے موت! اے بہشت سکوں! آ خوش آمدید
ہم زندگی میں پہلے پہل مسکرائے ہیں
جتنی بھی مے کدے میں ہے ساقی پلا دے آج
ہم تشنہ کام زُہد کے صحرا سے آئے ہیں
انسان جیتے جی کریں توبہ خطاؤں سے
مجبوریوں نے کتنے فرشتے بنائے ہیں
سمجھاتے قبلِ عشق تو ممکن تھا بنتی بات
ناصح غریب اب ہمیں سمجھانے آئے ہیں
کعبے میں خیریت تو ہے سب حضرتِ خمار
یہ دیر ہے جناب یہاں کیسے آئے ہیں

ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں

ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں
چلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میں
اگر تُو خفا ہو تو پروا نہیں
ترا غم خفا ہو تو مر جاؤں میں
تبسّم نے اتنا ڈسا ہے مجھے
کلی مسکرائے تو ڈر جاؤں میں
سنبھالے تو ہوں خود کو تجھ بن مگر
جو چھُو لے کوئی تو بکھر جاؤں میں
مبارک خمار آپ کو ترکِ مے
پڑے مجھ پر ایسی تو مر جاؤں میں

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے
دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھیے
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدّتوں میں ہم
قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے پوچھیے
آغازِعاشقی کا مزا آپ جانیے
انجامِ عاشقی کا مزا ہم سے پوچھیے
وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے
آنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھیے
جلتے دلوں میں جلتے گھروں جیسی ضَو کہاں
سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھیے
ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح
ہنسیے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھیے
ہم توبہ کر کے مر گئے قبلِ اجل خمار
توہینِ مے کشی کا مزا ہم سے پوچھیے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے
سکوں ہی سکوں ہے، خوشی ہی خوشی ہے
ترا غم سلامت، مجھے کیا کمی ہے
وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے
محبت بھی تنہائی یہ دائمی ہے
کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے
جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے
چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ، نئی روشنی ہے
جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو
خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے
مرے راہبر! مجھ کو گمراہ کر دے
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے
خمارِ بلا نوش! تُو اور توبہ!
تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں

وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں
محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں
تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں
ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی
وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں
یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو
یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں
قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے
خمار اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں

ہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھے

ہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھے
دو گنہگار زہر کھا بیٹھے
حالِ غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے
تیر مارے تھے، تیر کھا بیٹھے
آندھیو! جاؤ اب کرو آرام
ہم کود اپنا دیا بجھا بیٹھے
جی تو ہلکا ہوا مگر یارو
رو کے ہم لطفِ غم گنوا بیٹھے
بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا
گھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے
جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہم
سب نے چھیڑا تو لب ہلا بیٹھے
ہم رہے مبتلائے دیر و حرم
وہ دبے پاؤں دل میں آ بیٹھے
اٹھ کے اک بے وفا نے دے دی جان
رہ گئے سارے با وفا بیٹھے
حشر کا دن ابھی ہے دُور خمار
آپ کیوں زاہدوں میں جا بیٹھے

کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر

کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر

حرف آتا ہے مسیحائی پر

اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو

پیار آنے لگا رُسوائی پر

ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں !

تیری تصویر کی زیبائی پر

رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی

قامتِ عشق کی رعنائی پر

سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں

آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر

ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا

بات ہو گی مرے ہرجائی پر

خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں

پُھول کی طرز پذیرائی پر

دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے

دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے

وہ ماہتاب ہی اُترا،نہ اُس کے خواب اُترے

کہاں وہ رُت کہ جبینوں پہ آفتاب اُترے

زمانہ بیت گیا ان کی آب و تاب اُترے

میں اُس سے کُھل کے ملوں ،سوچ کا حجاب اُترے

وہ چاہتا ہے مری رُوح کا نقاب اُترے

اُداس شب میں ،کڑی دوپہر کے لمحوں میں

کوئی چراغ ، کوئی صُورتِ گلاب اُترے

کبھی کبھی ترے لہجے کی شبنمی ٹھنڈک

سماعتوں کے دریچوں پہ خواب خواب اُترے

فصیلِ شہرِ تمنا کی زرد بیلوں پر

تراجمال کبھی صُورت سحاب اُترے

تری ہنسی میں نئے موسموں کی خوشبو تھی

نوید ہو کہ بدن سے پُرانے خواب اُترے

سپردگی کا مجسم سوال بن کے کِھلوں

مثالِ قطرۂ شبنم ترا جواب اُترے

تری طرح ، مری آنکھیں بھی معتبر نہ رہیں

سفر سے قبل ہی رستوں میں وہ سراب اُترے

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم

ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود

سرزیرِبارِساغر و بادہ نہیں کیا

کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام

اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغوسبو نہ ہوں

اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

چھیڑ دل کے تار پر، کوئی نغمہ کوئی دُھن

چھیڑ دل کے تار پر، کوئی نغمہ کوئی دُھن
امن کی تُو بات کر، آشتی کے گا تُو گُن
ریشہ ریشہ تار تار، چاہے ہوں ہزار بار
سُن مرے دلِ فگار، وصل کے ہی خواب بُن
لوبھیوں کی بستی میں، مایا کے ترازو سے
فیصلہ کرے گا کون، کیا ہے پاپ کیا ہے پُن؟
سانس ہیں یہ چند پَل، آج ہیں نہیں ہیں کل
ہاں امَر وہ ہو گیا، زہر جام لے جو چُن
قریہ قریہ شہر شہر، موج موج لہر لہر
نام تیرا لے اسد، مہرباں کبھی تو سُن

آرزوئے بہار لاحاصِل

آرزوئے بہار لاحاصِل
عشقِ ناپائدار لاحاصِل
قیدِ فطرت میں تُو ہے پروانے
تیرا ہونا نثار لاحاصِل
ہے شفاعت اگر بُروں کے لیے
نیکیوں کا شمار لاحاصِل
دلِ دنیا ہے سنگِ مرمر کا
لاکھ کر لو پکار، لاحاصِل
شعر و گُل میں ڈھلے اسد لمحے
کب رہا انتظار لاحاصِل

نہ سرا ملا ہے کوئی، نہ سراغ زندگی کا

نہ سرا ملا ہے کوئی، نہ سراغ زندگی کا
یہ ہے میری کوئی ہستی، کہ ہے داغ زندگی کا
یہی وصل کی حقیقت، یہی ہجر کی حقیقت
کوئی موت کی ہے پروا، نہ دماغ زندگی کا
یہ بھی خوب ہے تماشا، یہ بہار یہ خزاں کا
یہی موت کا ٹھکانہ، یہی باغ زندگی کا
یہ میں اُس کو پی رہا ہوں، کہ وہ مجھ کو پی رہا ہے
مرا ہم نفَس ازَل سے، ہے ایاغ زندگی کا
اسد اُس سے پھر تو کہنا، یہی بات اک پرانی
میں مسافرِ شبِ ہجر، تُو چراغ زندگی کا

سمندروں کے اُدھر سے کوئی صدا آئی



سمندروں کے اُدھر سے کوئی صدا آئی

دلوں کے بند دریچے کُھلے، ہَوا آئی

سرک گئے تھے جو آنچل، وہ پھر سنور سے گئے

کُھلے ہُوئے تھے جو سر، اُن پہ پھر رِدا آئی

اُتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں

یہ کس کو چُھو کے مرے شہر میں صبا آئی

اُسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا

محبتوں کے سفرمیں عجب فضا آئی

کہیں رہے وہ، مگر خیریت کے ساتھ رہے

اُٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دُعا آئی

رقص میں رات ہے بدن کی طرح

رقص میں رات ہے بدن کی طرح

بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ

میرے بستر کی ہر شکن کی طرح

چاک ہے دامن قبائےِ بہار

میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح

زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں

کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح

مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں

تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح

بار ہا تیرا انتظار کیا

اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں

میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے

میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی

اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب

میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن

میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود

وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں

میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا

وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی

اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا

اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا

جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں

اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا

آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا

تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا

آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا

مٹّی کی گود کر کے ہری، پُھول کھِل چُکا

بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھر دیا ہے اور

خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا

چُھو کر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے

کیا راستے سے لَوٹنا، جب پاؤں چِھل چُکا

اُس وقت بھی خاموش رہی چشم پوش رات

جب آخری رفیق بھی دُشمن سے مِل چُکا

کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے

کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے

پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے

برف کے ہاتھ ہی، ہاتھ آئیں گے، اے موجِ ہوا

حِدتیں مجھ میں، نہ خوشبو  بدن میں، اب کے

دُھوپ کے ہاتھ میں جس طرح کُھلے خنجر ہوں

کُھردرے لہجے کی نوکیں ہیں کرن میں اب کے

دل اُسے چاہے جسے عقل نہیں چاہتی ہے

خانہ جنگی ہے عجب ذہن و بدن میں اب کے

جی یہ چاہے، کوئی پھر توڑ کے رکھ دے مجھ کو

لذتیں ایسی کہاں ہوں گی تھکن میں اب کے

نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ

نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ

کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ

روٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں

چشم پوشی کے سلیقے تھے، شکایات کے ساتھ

تجھ کو کھو کر بھی رہوں، خلوتِ جاں میں تیری

جیت پائی ہے محبت نے عجب، مات کے ساتھ

نیند لاتا ہُوا، پھر آنکھ کو دُکھ دیتا ہُوا

تجربے دونوں ہیں وابستہ ہات کے ساتھ

کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھّا مُجھ کو

دوست ہمدرد ہیں کتنے مری ذات کے ساتھ

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہُوا

کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں

بدن کو ناؤ، لُہو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا، اورلا جواب کر دے گا

اَنا پرست ہے اِتنا کہ بات سے پہلے

وہ اُٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوتِ شہرِ سخن میں وہ پُھول سا لہجہ

سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم

سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی ا پنی

تُمہاری یاد کے نام اِنتساب کر دے گا

یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے

یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے

زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے

لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے

دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے

رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے

جو کیفیت بھی جسم کو دے، انتہائی دے

شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے

آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

تخیئلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ

آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے

دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے

تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے

دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو

زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے

میں عشق کائنات میں زنجیر ہوسکوں

مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے

پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں

دشتِ بلا میں، رُوح مجھے کربلائی دے

وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا

وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پُھول کا ہے، پُھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے، بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے

ایک جھونکا ہے جو آئے گا، گُزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے

موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی

تیرا یہ پیار بھی دریا ہے ،اُتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث

جُرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

زندگی سے نظر ملاؤ کبھی

زندگی سے نظر ملاؤ کبھی

ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

ترکِ اُلفت کے بعد اُمید وفا

ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی!

اب جفا کی صراحتیں بیکار

بات سے بھرسکا ہے گھاؤ کبھی

شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں !

ہاتھ سے رُک سکاہے بہاؤ کبھی

اندھے ذہنوں سے سوچنے والو

حرف میں روشنی ملاؤ کبھی

بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں

آنسوؤں سے بُجھا الاؤ کبھی

اپنے اسپین کی خبر رکھنا

کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی!

نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں

نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں

اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں

رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاں

اور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں

مَیں بھنور سے تو نکل آئی، اور اب سوچتی ہوں

موجِ ساحل نے کیا ہے مجھے غرقاب کہاں

مَیں نے سونپی تھی تجھے آخری پُونجی اپنی

چھوڑ آیا ہے مری ناؤ تہہِ آب کہاں

ہے رواں آگ کا دریا مری شریانوں میں

موت کے بعد بھی ہو پائے گا پایاب کہاں

بند باندھا ہے سَروں کا مرے دہقانوں نے

اب مری فصل کو لے جائے گا سیلاب کہاں

جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے

جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے

چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر

شِہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے

ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو

تیرے جانے کی خبر دیوار و دَر کرتے رہے

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا، اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر، کرتے رہے

آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اُڑانوں کا خیال

جن کو تیرے زعم میں، بے بال و پر کرتے رہے

شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا

شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا

سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا

ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا

جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا

اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا

سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے

جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا

ردا چھٹی مرے سر سے، مگر میں کیا کہتی

کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا

ملے تو ایسے، رگِ جاں کو جیسے چُھو آئے

جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا

کوئی سوال جو پُوچھے، تو کیا کہوں اُس سے

بچھڑنے والے! سبب تو بتا جدائی کا

میں سچ کو سچ ہی کہوں گی، مجھے خبر ہی نہ تھی

تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا

نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے

میں احترام کروں گی تری بڑائی کا

دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے

دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے

تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے

یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے

اب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا

میں مطمئن ہوں، مرا دل تری پناہ میں ہے

بکھر چُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے

وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے

جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے

وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے

یہی وہ دن تھے جب اِ ک دوسرے کو پایا تھا

ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی

مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے!

سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے

سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے

دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے

کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئی

دل آج بھی ہاتھ مَل رہا ہے

راتوں کے سفر میں وہم ساتھا

یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے

ہم بھی ترے بعد جی رہے ہیں

اور تُو بھی کہیں بہل رہا ہے

سمجھا کے ابھی گئی ہیں سکھیاں

اور دل ہے کہ پھر مچل رہا ہے

ہم ہی بُرے ہو گئے __کہ تیرا

معیارِ وفا بدل رہا ہے

پہلی سی وہ روشنی نہیں اب

کیا درد کا چاند ڈھل رہا ہے

خیال و خواب ہُوا برگ و بار کا موسم

خیال و خواب ہُوا برگ و بار کا موسم

بچھڑ گیا تری صُورت، بہار کا موسم

کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں

ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم

وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لَوٹ آئے

سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم

پیام آیا ہے پھر ایک سروقامت کا

مرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم

وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہے

مرے بدن کو مِلا ہے چنار کا موسم

رفاقتوں کے نئے خواب خُوشنما ہیں مگر

گُزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم

ہَوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیں

زمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم

وہ میرا نام لیے جائے اور میں اُس کا نام

لہو میں گُونج رہا ہے پکار کا موسم

قدم رکھے مری خُوشبو کہ گھر کو لَوٹ آئے

کوئی بتائے مُجھے کوئے یار کا موسم

وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائے

مرا غرور ہے بیلے کے ہار کا موسم

ترے طریقِ محبت پہ با رہا سوچا

یہ جبر تھا کہ ترے اختیار کا موسم

دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا

دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا

مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا

اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اُس کو

کچھ تو لازم ہُوا وحشت کرنا

جُرم کس کا تھا سزا کِس کو مِلی

کیا گئی بات پہ حُجت کرنا

کون چاہے گا تمھیں میری طرح

اب کِسی سے نہ محبت کرنا

گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے

وقت مِل جائے تو زحمت کرنا

سبز موسم کی خبر لے کے ہَوا آئی ہو

سبز موسم کی خبر لے کے ہَوا آئی ہو

کام ، پت جھڑ کے اسیروں کی دُعا آئی ہو

لَوٹ آئی ہو وہ شب جس کے گُزر جانے پر

گھاٹ سے پائلیں بجنے کی صدا آئی ہو

اِسی اُمید میں ہر موجِ ہَوا کو چُوما

چُھو کے شاید میرے پیاروں کی قبا آئی ہو

گیت جِتنے لِکھے اُن کے لیے اے موج صبا!

دل یہی چاہا کہ تو اُن کو سُنا آئی ہو

آہٹیں صرف ہَواؤں کی ہی دستک نہ بنیں

اب تو دروازوں پہ مانوس صدا آئی ہو

یُوں سرِ عام، کُھلے سر میں کہاں تک بیٹھوں

کِسی جانب سے تو اَب میری ردا آئی ہو

جب بھی برسات کے دن آئے، یہی جی چاہا

دُھوپ کے شہر میں بھی گِھر کے گھٹا آئی ہو

تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موجِ بہار!

اب کے میرے لیے خوشبوئے حِنا آئی ہو

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے

تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا

رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے

جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے

لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے

وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے

خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں

ہم بدگماں ایسے کہ گھر کو پلٹ گئے

ملنا__دوبارہ ملنے کو وعدہ__جُدائیاں

اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے

روئی ہوں آج کھُل کے، بڑی مُدتوں کے بعد

بادل جو آسمان پہ چھائے تھے، چھٹ گئے

کِس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں کل

آئی ہوا تو کِتنے ورق ہی اُلٹ گئے

شہرِ وفا میں دُھوپ کا ساتھی کوئی نہیں

سُورج سروں پہ آیا تو سائے بھی گھٹ گئے

اِتنی جسارتیں تو اُسی کو نصیب تھیں

جھونکے ہَوا کے، کیسے گلے سے لپٹ گئے

دستِ ہَوا نے جیسے درانتی سنبھال لی

اب کے سروں کی فصل سے کھلیان پٹ گئے

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی ، انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بے کل بےکل رہتا ہے ، ہو پیت میں جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
یہ بات عجیب سناتے ہو ، وہ دنیا سے بے آس ہوئے
اک نام سنا اور غش کھایا ، اک ذکر پہ آپ اداس ہوئے
وہ علم میں افلاطون سنے، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے
وہ تیس برس کے ہوتے ہیں ، وہ بی-اے،ایم-اے پاس ہوئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
گر عشق کیا ہے تب کیا ہے، کیوں شاد نہیں آباد نہیں
جو جان لیے بن ٹل نہ سکے ، یہ ایسی بھی افتاد نہیں
یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں فرہاد نہیں
کیا ہجر کا دارو مشکل ہے؟ کیا وصل کے نسخے یاد نہیں؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو ہم جان گئے
وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے، انجان گئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں، کیا انشا کو سمجھانا ہے؟
اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے ، گو اب کچھ اور زمانہ ہے
یا چھوڑیں یا تکمیل کریں ، یہ عشق ہے یا افسانہ ہے؟
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے ؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں

تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا

تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا
تجھ پر آتا ہے مجھے پیار یہ کیا
جانتا ہوں کہ میری جان ہے تو
اور میں جان سے بیزار یہ کیا
پاؤں‌ پر اُنکے گِرا میں‌ تو کہا
دیکھ ہُشیار خبردار یہ کیا
تیری آنکھیں تو بہت اچھی ہیں
سب انہیں کہتے ہیں بیمار یہ کیا
کیوں مرے قتل سے انکار یہ کیوں
اسقدر ہے تمہیں دشوار یہ کیا
سر اُڑاتے ہیں وہ تلواروں سے
کوئی کہتا نہیں سرکار یہ کیا
ہاتھ آتی ہے متاعِ الفت
ہاتھ ملتے ہیں خریدار یہ کیا
خوبیاں کل تو بیاں ہوتی تھیں
آج ہے شکوۂ اغیار یہ کیا
وحشتِ دل کے سوا اُلفت میں
اور ہیں سینکڑوں آزار یہ کیا
ضعف رخصت نہیں دیتا افسوس
سامنے ہے درِ دلدار یہ کیا
باتیں سنیے تو پھڑک جائیے گا
گرم ہیں‌ داغ کے اشعار یہ کیا

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو
دل میں سو شکوۂ غم پوچھنے والا ایسا
کیا کہوں حشر کے دن یہ تو بتا دو مجھ کو
مجھ کو ملتا ہی نہیں‌ مہر و محبت کا نشان
تم نے دیکھا ہو کسی میں تو بتا دو مجھ کو
ہمدموں اُن سے میں‌کہہ جاؤں گا حالت دل کی
دو گھڑی کے لیئے دیوانہ بنا دو مجھ کو
بیمروت دل بیتاب سے ہو جاتا ہے
شیوۂ خاص تم اپنا ہی سکھا دو مجھ کو
تم بھی راضی ہو تمہاری بھی خوشی ہے کہ نہیں
جیتے جی داغ یہ کہتا ہے مِٹا دو مجھ کو

ہجر کی پہلی شام کے سائے دور افق تک چھائے تھے

ہجر کی پہلی شام کے سائے دور افق تک چھائے تھے
ہم جب اس کے سحر سے نکلے سب راستے ساتھ لائے تھے
جانے وہ کیا سوچ رہا تھا اپنے دل میں ساری رات
پیار کی باتیں کرتے کرتے اس کے نین بھر آئے تھے
میرے اندر چلی تھی آندھی ٹھیک اسی دن پت جھڑ کی
جس دن اپنے جوڑے میں اس نے کچھ پھول سجائے تھے
اس نے کتنے پیار سے اپنا کفر دیا نذرانے میں
ہم اپنے ایمان کا سودا جس سے کرنے آئے تھے
کیسے جاتی میرے بدن سے بیتے لمحوں کی خوشبو
خوابوں کی اس بستی میں کچھ پھول میرے ہمسائے تھے
کیسا پیارا منظر تھا جب دیکھ کے اپنے ساتھی کو
پیڑ پہ بیٹھی اک چڑیا نے اپنے پر پھیلائے تھے
رخصت کے دن بھیگی آنکھوں اس کا وہ کہنا ہائے قتیل
تم کو لوٹ ہی جانا تھا تو اس نگری کیوں آئے تھے

پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے

پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے
پہلے مزاجِ راہ گزر جان جائیے
پھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے
کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
میری سنیں تو دل کا کہا مان جائیے
اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاس
یہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے
شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہو
آنکھوں میں جھانک کر ہمیں پہچان جائیے

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول، کہ جان اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دوکان میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دھانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

چراغِ راہ بُجھا کیا، کہ رہنما بھی گیا

چراغِ راہ بُجھا کیا، کہ رہنما بھی گیا

ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا

میں پُھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہُوئی

وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا

بہت عزیز سہی اُس کو میری دلداری

مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دُکھا بھی گیا

اب اُن دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں

وہ تاک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا

سب آئے میری عیادت کو، وہ بھی آیا

جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا

یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اُتری ہیں

کہ خواب بھی مرے رُخصت ہیں، رتجگا بھی گیا

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ

حیرت ہے مجھے، آج کدھر بُھول پڑے وہ

بُھولا نہیں دل، ہجر کے لمحات کڑے وہ

راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!

کیوں جان پہ بن آئی ہے، بِگڑا ہے اگر وہ

اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ

الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات

خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ

ہر شخص مجھے، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں

سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ

بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا

دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ

طوفاں ہے تو کیا غم، مجھے آواز تو دیجے

کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ

تمام رات میرے گھر کا ایک در کُھلا رہا

تمام رات میرے گھر کا ایک در کُھلا رہا

میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا

وہ شہر ہے کہ جادوگرنیوں کا کوئی دیس ہے

وہاں تو جوگیا، کبھی بھی لوٹ کر نہ آسکا

میں وجہِ ترکِ دوستی کو سُن کر مُسکرائی تو

وہ چونک اُٹھا عجب نظر سے مجھ کو دیکھنے لگا

بچھڑ کے مُجھ سے، خلق کو عزیز ہو گیا ہے تُو

مجھے تو جو کوئی ملا، تجھی کو پُوچھتا رہا

وہ دلنواز لمحے بھی گئی رُتوں میں آئے جب

میں خواب دیکھتی رہی، وہ مجھ کو دیکھتا رہا

وہ جس کی ایک پل کی بے رُخی بھی دل کو بار تھی

اُسے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے مجھ کو بُھول جا

دمک رہا ہے ایک چاند سا جبیں پہ اب تلک

گریزپا محبتوں کا کوئی پل ٹھہر گیا

وہ عکسِ موجۂ گل تھا، چمن چمن میں رہا

وہ عکسِ موجۂ گل تھا، چمن چمن میں رہا

وہ رنگ رنگ میں اُترا، کرن کرن میں رہا

وہ نام حاصلِ فن ہو کے میرے فن میں رہا

کہ رُوح بن کے مری سوچ کے بدن میں رہا

سکونِ دل کے لیے میں کہاں کہاں نہ گئی

مگر یہ دل، کہ سدا اُس کی انجمن میں رہا

وہ شہر والوں کے آگے کہیں مہذب تھا

وہ ایک شخص جو شہروں سے دُور بَن میں رہا

چراغ بجھتے رہے اور خواب جلتے رہے

عجیب طرز کا موسم مرے وطن میں رہا

وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا

وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا

براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا

وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا

یہ نوکری کا بُلاوا تو اِک بہانہ ہوا

خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں

یہ آنکھیں جن کو کبھی دُکھ کا حوصلہ نہ ہُوا

کنارِ صحن چمن سبز بیل کے نیچے

وہ روز صبح کا مِلنا تو اَب فسانہ ہُوا

میں سوچتی ہوں کہ مُجھ میں کمی تھی کِس شے کی

کہ سب کا ہو کے رہا وہ، بس اِک مرا نہ ہُوا

کِسے بُلاتی ہیں آنگن کی چمپئی شامیں

کہ وہ اَب اپنے نئے گھر میں بھی پرانا ہُوا

دھنک کے رنگ میں ساری تو رنگ لی میں نے

اب یہ دُکھ ، کہ پہن کرکِسے دِکھاناہُوا

میں اپنے کانوں میں بیلے کے پُھول کیوں پہنوں

زبانِ رنگ سے کِس کو مُجھے بُلانا ہُوا

پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح

پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح

دست گُل پھیلا ہُوا ہے مرے آنچل کی طرح

کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک

جسم برسات میں بھیگے ہُوئے جنگل کی طرح

اُونچی آواز میں اُس نے تو کبھی بات نہ کی

خفگیوں میں بھی وہ لہجہ رہا کومل کی طرح

مِل کے اُس شخص سے میں لاکھ خموشی سے چلوں

بول اُٹھتی ہے نظر، پاؤں کی چھاگل کی طرح

پاس جب تک وہ رہے، درد تھما رہتا ہے

پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح

اَب کسی طور سے گھر جانے کی صُورت ہی نہیں

راستے میرے لیے ہو گئے دلدل کی طرح

جسم کے تیرہ و آسیب زدہ مندر میں

دل سِر شام سُلگ اُٹھتا ہے صندل کی طرح

سکوں بھی خواب ہُوا، نیند بھی ہے کم کم پھر

سکوں بھی خواب ہُوا، نیند بھی ہے کم کم پھر

قریب آنے لگا دُوریوں کا موسم پھر

بنا رہی ہے تری یاد مُجھ کو سلکِ کُہر

پرو گئی مری پلکوں میں آج شبنم پھر

وہ نرم لہجے میں کُچھ کہہ رہا ہے پھر مُجھ سے

چھڑا ہے پیار کے کومل سُروں میں مدھم پھر

تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سُنوں

اُلجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

نہ اُس کی بات میں سمجھوں نہ وہ مری نظریں

معاملاتِ زباں ہو چلے ہیں مبہم پھر

یہ آنے والا نیا دُکھ بھی اُس کے سر ہی گیا

چٹخ گیا مری انگشتری کا نیلم پھر

وہ ایک لمحہ کہ جب سارے رنگ ایک ہوئے

کِسی بہار نے دیکھا نہ ایسا سنگم پھر

بہت عزیز ہیں آنکھیں مری اُسے، لیکن

وہ جاتے جاتے انہیں کر گیا ہے پُر نم پھر

ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ

ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ

اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ

ہَوا! مرے جُوڑے میں پُھول سجاتی جا

دیکھ رہی ہوں اپنے من موہن کی راہ

اُس کی خفگی جاڑے کی نرماتی دُھوپ

پاروسکھی! اس حّدت کو ہنس کھیل کے سہہ

آج تو سچ مچ کے شہزادے آئیں گے

نندیا پیاری! آج نہ کُچھ پریوں کی کہہ

دوپہروں میں جب گہرا سناٹا ہو

شاخوں شاخوں موجِ ہَوا کی صُورت بہہ

ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو

ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو

کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حِنائی ہو!

کوئی تو ہو جو مرے تن کو روشنی بھیجے

کِسی کا پیار ہَوا میرے نام لائی ہو!

گلابی پاؤں مرے چمپئی بنانے کو

کِسی نے صحن میں مہندی کی باڑھ اُگائی ہو

کبھی تو مرے کمرے میں ایسا منظر بھی

بہار دیکھ کے کھڑکی سے، مُسکرائی ہو

وہ سوتے جاگتے رہنے کا موسموں فسوں

کہ نیند میں ہوں مگر نیند بھی نہ آئی ہو

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو

رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو

پیرہن میرا مگر اُس کے بدن کی خوشبو

اُس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو

موجۂ گُل کو ابھی اِذنِ تکلم نہ ملے

پاس آتی ہے کسی نرم سخن کی خوشبو

قامتِ شعر کی زیبائی کا عالم مت پُوچھ

مہربان جب سے ہے اُس سرد بدن کی خوشبو

ذکر شاید کسی خُورشید بدن کا بھی کرے

کُو بہ کُو پھیلی ہُوئی میرے گہن کی خوشبو

عارضِ گُل کو چُھوا تھا کہ دھنک سی بکھری

کِس قدر شوخ ہے ننھی سی کرن کی خوشبو

کِس نے زنجیر کیا ہے رمِ آہو چشماں

نکہتِ جاں ہے انہیں دشت و دمن کی خوشبو

اِس اسیری میں بھی ہر سانس کے ساتھ آتی ہے

صحنِ زنداں میں انہیں دشت وطن کی خوشبو

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی

خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں

شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی

شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں

تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی

ایسے موسم بھی گزارے ہم نے

صبحیں جب اپنی تھیں ،شامیں اُس کی

دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی

آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

رنگ جوئندہ وہ، آئے تو سہی!

آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

فیصلہ موجِ ہَوا نے لکھا!

آندھیاں میری، بہاریں اُس کی

خُود پہ بھی کُھلتی نہ ہو جس کی نظر

جانتا کون زبانیں اُس کی

نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر

کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی

دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں

مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی

جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے

جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
ہائے وہ کيونکر دل بہلائے
غم بھی جس کو راس نہ آئے
ضد پر عشق اگر آ جائے
پانی چھڑکے‘ آگ لگائے
دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہے
بھاگے لیکن راہ نہ پائے
کیسا مجاز اور کیسی حقیقت؟
اپنے ہی جلوے‘ اپنے ہی سائے
جھوٹی ہے ہر ايک مسرت
روح اگر تسکين نہ پائے
کارِ زمانہ جتنا جتنا
بنتا جائے‘ بگڑتا جائے
ضبط محبت، شرطِ محبت
جی ہے کہ ظالم امڈا آئے
حسن وہی ہے حسن جو ظالم
ہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے
نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو
روح سنے اور روح سنائے
راہِ جنوں آسان ہوئی ہے
زلف و مژہ کے سائے سائے

تری خوشی سے اگر غم ميں بھی خوشی نہ ہوئی

تری خوشی سے اگر غم ميں بھی خوشی نہ ہوئی
وہ زندگی تو محبت کی زندگی نہ ہوئی
کوئی بڑھے نہ بڑھے ہم تو جان ديتے ہيں
پھر ايسی چشم توجہ کوئی ہوئی نہ ہوئی
فسردہ خاطری عشق اے معاذ اللہ
خيال يار سے بھی کچھ شگفتگی نہ ہوئی
تری نگاہ کرم کو بھی آزما ديکھا
اذيتوں ميں نہ ہوئی تھی کچھ کمی نہ ہوئی
صبا يہ ان سے ہما را پيام کہہ دينا
گئے ہو جب سے يہاں صبح و شام ہی نہ ہوئی
ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری
کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی
خيال يار سلامت تجھے خدا رکھے
ترے بغير کبھی گھر ميں روشنی نہ ہوئی
گئے تھے ہم بھی جگر جلوہ گاہ جاناں ميں
وہ پوچھتے ہی رہے ہم سے بات بھی نہ ہوئی

ميرا جو حال سو ہو برق نظر گرائے جا

ميرا جو حال سو ہو برق نظر گرائے جا
ميں يوں نالہ کش رہوں تو يونہي مسکرائے جا
دل کے ہر ايک گوشہ ميں آگ سی اک لگائے جا
مطرب آتشيں نو ہاں اسی دہن ميں گائے جا
لحظہ بہ لحظہ، دم بہ دم، جلوہ بہ جلوہ آئے جا
تشنہ حسن ذات ہوں، تشنہ لبی بڑھائے جا
جتنی بھی آج پی سکوں، عذر نہ کر پلائے جا
مست نظر کا واسطہ نظر بنائےجا
لطف سے ہو کہ قہر سے، ہوگا کبھی تو روبرو
اس کا جہاں پتا چلے ، شور وہيں مچائے جا
عشق کو مطمئن نہ رکھ حسن کے اعتماد پر
وہ تجھے آزما چکا، تواسے آزمائے جا

ہم کو مٹا سکے، یہ زمانے میں دم نہیں

ہم کو مٹا سکے، یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے، زمانے سے ہم نہیں
بے فائدہ الم نہیں، بے کار غم نہیں
توفیق دے خُدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں
میری زباں پہ شکوۂ اہلِ ستم نہیں
مجھ کو جگا دیا ، یہی احسان کم نہیں
یارب ہجومِ درد کو دے اور وسعتیں
دامن تو کیا ابھی میری آنکھیں بھی نم نہیں
زاہد کچھ اور ہو نہ ہو مے خانے میں مگر
کیا کم یہ ہے کہ شکوۂ َ دیر و حرم نہیں
مرگِ جگر پر کیوں تیری آنکھیں ہیں اشکبار
اک سانحہ صحیح مگر اتنا بھی اہم نہیں

کسی صورت نمود سوز پہچانی نہیں جاتی

کسی صورت نمود سوز پہچانی نہیں جاتی
بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہيں جاتی
صداقت ہو تو دل سينے سے کھنچنے لگتے ہيں واعظ
حقيقت خود کو منوا ليتی ہے مانی نہيں جاتی
جلے جاتے ہيں بڑھ بڑھ کر مٹے جاتے ہيں گر گر کر
حضور شمع پروانوں کی نادانی نہيں جاتی
يوں دل سے گزرتے ہيں کہ آہٹ تک نہيں ہوتی
وہ يوں آواز ديتے ہيں کہ پہچانی نہيں جاتی
محبت ميں اک ايسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہيں طغيانی نہيں جاتی
جگر وہ بھی از سر تا پا محبت ہی محبت ہيں
مگر ان کی محبت صاف پہچانی نہيں جاتی

شکستِ توبہ

ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
لہروں سے کھیلتا ہوا‘ لہرا کے پی گیا
بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا
توبہ کو توبہ تاڑ کے‘ تھرا کے پی گیا
زاہد‘ یہ میری شوخیِ رندانہ دیکھنا!
رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا
سر مستیِ ازل مجھے جب یاد آ گئی
دنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا
آزردگیِ‌خاطرِ ساقی کو دیکھ کر
مجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا
اے رحمتِ تمام! مری ہر خطا معاف
میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا
پیتا بغیرِ اذن‘ یہ کب تھی مری مجال
در پردہ چشمِ یار کی شہ پا کے پی گیا
اس جانِ مے کدہ کی قسم‘ بارہا جگر!
کل عالمِ بسیط پہ میں چھا کے پی گیا

یا رب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا

یا رب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا، یا دل نہ دیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا
امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا
ناکامِ تمنا دل، اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ہو
صندل سے مہکتی ہوئی پرکیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سے سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل سے گزری ہیں تاروں کی باراتیں اکثر
عشق راہزن نہ سہی عشق کے ہاتھوں اکثر
ہم نے لٹتی ہوئی دیکھی ہیں باراتیں اکثر
ہم سے اک بار بھی جیتا ہے نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر
ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ہیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتے ہیں باتیں اکثر
حال کہنا ہو کسی سے تو مخاطب ہے کوئی
کتنی دلچسپ ہوا کرتی ہیں باتیں اکثر
اور تو کون ہے جو مجھ کو تسلی دیتا
ہاتھ رکھ دیتی ھیں دل پر تری باتیں اکثر

تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے

تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے

تجھے الگ سے جو سوچوں عجیب لگتا ہے

جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار

وہ شخص مجھ کو بہت بدنصیب لگتا ہے

حدودِ ذات سے باہر نکل کے دیکھ زرا

نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ہے

یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوص

کبھی کبھی یہ سب کچھ عجیب لگتا ہے

اُفق پہ دور چمکتا ہوا کوئی تارا

مجھے چراغِ دیارِ حبیب لگتا ہے

نہ جانے کب کوئی طوفان آئے گا یارو

بلند موج سے ساحل قریب لگتا ہے

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ہم اُن کے پاس جاتے ہیں مگر آہِستہ آہستہ
ابھی تاروں سے کھیلو، چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ
ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو چِلمنوں کے راز کو سمجھو
اُٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ
زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں
پِیو اِن انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ
یونہی اِک روز اپنے دل کا قصّہ بھی سنا دینا
خطاب آہِستہ آہِستہ نظر آہستہ آہستہ