خیال و خواب ہُوا برگ و بار کا موسم

خیال و خواب ہُوا برگ و بار کا موسم

بچھڑ گیا تری صُورت، بہار کا موسم

کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں

ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم

وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لَوٹ آئے

سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم

پیام آیا ہے پھر ایک سروقامت کا

مرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم

وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہے

مرے بدن کو مِلا ہے چنار کا موسم

رفاقتوں کے نئے خواب خُوشنما ہیں مگر

گُزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم

ہَوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیں

زمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم

وہ میرا نام لیے جائے اور میں اُس کا نام

لہو میں گُونج رہا ہے پکار کا موسم

قدم رکھے مری خُوشبو کہ گھر کو لَوٹ آئے

کوئی بتائے مُجھے کوئے یار کا موسم

وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائے

مرا غرور ہے بیلے کے ہار کا موسم

ترے طریقِ محبت پہ با رہا سوچا

یہ جبر تھا کہ ترے اختیار کا موسم

1 تبصرہ جات:

shahid said...

بہت خوب ۔

Post a Comment