کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے

تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا

رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے

جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

6 تبصرہ جات:

Deven Irasna said...
This comment has been removed by the author.
nizamuddin said...

پروین شاکر کی یہ بہت خوبصورت غزل ہے ۔۔۔۔ پوسٹ کرنے کا شکریہ
دیگر مشہور شعرا کا کلام پڑھنے کے لئے وزٹ کیجئے
http://www.urduinc.com/urdu-poetry

jan e afsana said...

ap logo ne urdu ko zinda rakha hai ap ki is kawish ko salam pesh karta hun

sabir gujjar said...

Wah g wah. Bohat khoub

Asma Chaudhry (अस्मा चौधरी) said...
This comment has been removed by the author.
Yasir arfat said...

کمال کی شاعرہ کمال کی شاعری...
بہت ہی عمدہ.

Post a Comment