بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا

اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

2 تبصرہ جات:

Ehsan ullah said...

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﻻ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺕ ﺗﮏ ۔ ۔ ۔
ﺍﯾﮏ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﻤﺎ _____ ﺍﺫﯾﺖ ﮐﻮ ۔ ۔ ۔!!!

Ehsan ullah said...

یاد ماضی عزاب هے یا رب
چهین لے مجهسے حافظہ میرا

Post a Comment