مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند


مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند
میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند
اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند

18 تبصرہ جات:

sahar awan said...

Bht khoob

Muhammad Tariq said...

Good

Saqib Saeed said...

aslam.o.alykum is web ka admin kon he mujhse rabta kren mera facebook i.d
www.facebook.com/saqib.saeed65

sasajid said...

بہت خوب

Sarah Gul said...

Wow... like it.

Sarah Gul said...

Wow... like it.

Anonymous said...

خوب کہا ہے

Mohammed Adrees said...

واہ صاحب کیا کہنے

Tahir Abbas said...

ارے واہ.
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند.

Anonymous said...

آخری شعر کچھ بے وزن لگتا ہے۔لفظ محسن ٹھیک نہیں شاےد

Unknown said...

ٹھیک کہا آپ نے

Abdul Hafeez said...

ٹھیک کہا آپ نے

fateh gani said...

واہ

fateh gani said...

بہت خوب

Firas Shahid said...

اس شعر کو پڑھنے کا انداز بدل ڈالو آپ کو ٹھیک لگے گا.

Firas Shahid said...

اس شعر کو پڑھنے کا انداز بدل ڈالو آپ کو ٹھیک لگے گا.

sawan khan abbasi said...

واه کيا بات ہ

Fashion & Beauty Tips said...




Read online Urdu Digests,Urdu Books,Novels,Magazines,Safarnama,Islamic Books,http://bookspoint.net/






Post a Comment