پروین شاکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پروین شاکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

کون ہو گا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے

دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا

وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں

روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

اتنا حیراں ہو مری بے طلبی کے آگے

واقفس میں کوئی در خود میرا صیاد کرے

سلب بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی

روشنی چھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے

سوچ رکھنا بھی جرائم میں ہے شامل اب تو

وہی معصوم ہے ہر بات پہ جو صاد کرے

جب لہو بول پڑے اس کی گواہی کے خلاف

قاضی شہر کچھ اس بات میں ارشاد کرے

اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود

میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے

گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو

گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو

کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو

میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں

جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو

کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں ،کہیں مل لیں

یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے

محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو

یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا

کہیں ہوا کا ہی اُس نے نہ رُوپ دھارا ہو

اُفق تو کیا ہے،درِ کہکشاں بھی چُھو آئیں

مُسافروں کو اگر چاند کا اشارہ ہو

میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں

کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے

میں چاہے نظم کا ٹکڑا، وہ نثر پارہ ہو

وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا

وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا

پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

اسے تو دوست ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ بھی تھے

خطا نہ ہوتا کسی طور ، تیر ایسا تھا

پیام دینے کا موسم نہ ہم نوا پاکر

پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا

کسی بھی شاخ کے پیچھے پناہ لیتی میں

مجھے وہ توڑ ہی لیتا، شریر ایسا تھا

ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن

اُداسیوں سے ہی نبھتی ، خمیر ایسا تھا

ترا کمال کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں

غزالِ شوق کہاں کا اسیر ایسا تھا!

میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی

میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی

کیسی کیسی دُعاؤں کے ہوتے ہُوئے بد دُعا لگ گئی

ایک بازو بریدہ شکستہ بدن قوم کے باب میں

زندگی کا یقیں کس کو تھا ، بس یہ کہیے ، دوا لگ گئی

جُھوٹ کے شہر میں آئینہ کیا لگا ، سنگ اُٹھائے ہُوئے

آئینہ ساز کی کھوج میں جیسے خلقِ خُدا لگ گئی

جنگلوں کے سفر میں توآسیب سے بچ گئی تھی ، مگر

شہر والوں میں آتے ہی پیچھے یہ کیسی بلا لگ گئی

نیم تاریک تنہائی میں سُرخ پُھولوں کا بن کِھل اُٹھا

ہجر کی زرد دیوار پر تیری تصویر کیا لگ گئی

وہ جو پہلے گئے تھے ، ہمیں اُن کی فرقت ہی کچھ کم نہ تھی

جان ! کیا تجھ کو بھی شہرِ نا مہرباں کی ہوا لگ گئی

دو قدم چل کے ہی چھاؤں کی آرزو سر اُٹھانے لگی

میرے دل کو بھی شاید ترے حوصلوں کی ادا لگ گئی

میز سے جانے والوں کی تصویر کب ہٹ سکی تھی مگر ،

درد بھی جب تھما ، آنکھ بھی جب ذرا لگ گئی

اب کیسی پردہ داری ، خبر عام ہو چکی

اب کیسی پردہ داری ، خبر عام ہو چکی

ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی

اب آسماں سے چادرِ شب آئے بھی تو کیا

بے چاری زمین پہ الزام ہو چکی

اُجڑے ہُوئے دیارپہ پھر کیوں نگاہ ہے

اس کشت پر تو بارشِ اکرام ہو چکی

سُورج بھی اُس کو ڈھونڈ کے واپس چلا گیا

اب ہم بھی گھر کو لوٹ چلیں ، شام ہو چکی

شملے سنبھالتے ہی رہے مصلحت پسند

ہونا تھا جس کو پیار میں بدنام ہو چکی

کوہِ ندا سے بھی سخن اُترے اگر تو کیا

نا سامعوں میں حرمتِ الہام ہو چکی

دُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا ! آہستہ

دُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا ! آہستہ

اے خدا اب کے چلے زرد ہوا ، آہستہ

خواب جل جائیں ، مری چِشم تمنّا بُجھ جائے

بس ہتھیلی سے اُڑے رنگ حِنا آہستہ

زخم ہی کھولنے آئی ہے تو عجلت کیسی

چُھو مرے جسم کو ، اے بادِ صبا ! آہستہ!

ٹوٹنے اور بکھرنے کا کوئی موسم ہو

پُھول کی ایک دُعا۔۔۔۔موجِ ہوا! آہستہ

جانتی ہوں کہ بچھڑنا تری مجبوری ہے

مری جان ! ملے مجھ کو سزا آہستہ

میری چاہت میں بھی اب سوچ کا رنگ آنے لگا

اور ترا پیار بھی شدّت میں ہوا آہستہ

نیند پر جال سے پڑنے لگے آوازوں کے

اور پھر ہونے لگی تیری صدا آہستہ

رات جب پُھول کے رُخسار پہ دھیرے سے جھکی

’’چاند نے جھک کے کہا، اور ذرا آہستہ!‘‘

منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں

منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں

حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں

یہ تُو ہے کہ میرا واہمہ ہے!

بند آنکھوں سے تجھ کو تک رہی ہوں

جیسے کہ کبھی نہ تھا تعارف

یوں ملتے ہوئے جھجک رہی ہوں

پہچان! میں تیری روشنی ہوں

اور تیری پلک پلک رہی ہوں

کیا چَین ملا ہے………سر جو اُس کے

شانوں پہ رکھے سِسک رہی ہوں

پتّھر پہ کھلی ، پہ چشمِ گُل میں

کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہوں

جگنو کہیں تھک کے گرِ چُکا ہے

جنگل میں کہاں بھٹک رہی ہوں

گڑیا مری سوچ کی چھنی کیا

بچّی کی طرح بِلک رہی ہوں

اِک عمر ہُوئی ہے خُود سے لڑتے

اندر سے تمام تھک رہی ہوں

رس پھر سے جڑوں میں جا رہا ہے

میں شاخ پہ کب سےپک رہی ہوں

تخلیقِ جمالِ فن کا لمحہ!

کلیوں کی طرح چٹک رہی ہوں

دن ٹھہر جائے ، مگر رات کٹے

دن ٹھہر جائے ، مگر رات کٹے

کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے

خوشبوئیں مجھ کو قلم کرتی گئیں

شاخ در شاخ مرے ہات کٹے

موجۂ گُل ہے کہ تلوار کوئی

درمیاں سے ہی مناجات کٹے

حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر

بات سے پہلے جہاں بات کٹے

چاند! آ مِل کے منائیں یہ شب

آج کی رات ترے سات کٹے

پُورے انسانوں میں گُھس آئے ہیں

سر کٹے ، جسم کٹے ، ذات کٹے

اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے

اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
برسات میں بھی یاد نہ جب اُن کو ہم آئے
مٹّی کی مہک سانس کی خوشبو میں اُتر کر
بھیگے ہوئے سبزے کی ترائی میں بُلائے
دریا کی طرح موج میں آئی ہُوئی برکھا
زردائی ہُوئی رُت کو ہرا رنگ پلائے
بوندوں کی چھما چھم سے بدن کانپ رہا ہے
اور مست ہوا رقص کی لَے تیز کیے جائے
شاخیں ہیں تو وہ رقص میں ، پتّے ہیں تو رم میں
پانی کا نشہ ہے کہ درختوں کو چڑھا جائے
ہر لہر کے پاؤں سے لپٹنے لگے گھنگھرو
بارش کی ہنسی تال پہ پا زیب جو چھنکائے
انگور کی بیلوں پہ اُتر آئے ستارے
رکتی ہوئی بارش نے بھی کیا رنگ دکھائے

کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر

کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر

حرف آتا ہے مسیحائی پر

اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو

پیار آنے لگا رُسوائی پر

ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں !

تیری تصویر کی زیبائی پر

رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی

قامتِ عشق کی رعنائی پر

سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں

آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر

ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا

بات ہو گی مرے ہرجائی پر

خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں

پُھول کی طرز پذیرائی پر

دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے

دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے

وہ ماہتاب ہی اُترا، نہ اُس کے خواب اُترے

کہاں وہ رُت کہ جبینوں پہ آفتاب اُترے

زمانہ بیت گیا ان کی آب و تاب اُترے

میں اُس سے کُھل کے ملوں ، سوچ کا حجاب اُترے

وہ چاہتا ہے مری رُوح کا نقاب اُترے

اُداس شب میں ،کڑی دوپہر کے لمحوں میں

کوئی چراغ ، کوئی صُورتِ گلاب اُترے

کبھی کبھی ترے لہجے کی شبنمی ٹھنڈک

سماعتوں کے دریچوں پہ خواب خواب اُترے

فصیلِ شہرِ تمنا کی زرد بیلوں پر

تراجمال کبھی صُورت سحاب اُترے

تری ہنسی میں نئے موسموں کی خوشبو تھی

نوید ہو کہ بدن سے پُرانے خواب اُترے

سپردگی کا مجسم سوال بن کے کِھلوں

مثالِ قطرۂ شبنم ترا جواب اُترے

تری طرح ، مری آنکھیں بھی معتبر نہ رہیں

سفر سے قبل ہی رستوں میں وہ سراب اُترے

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم

ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود

سرزیرِبارِساغر و بادہ نہیں کیا

کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام

اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغوسبو نہ ہوں

اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

سمندروں کے اُدھر سے کوئی صدا آئی


سمندروں کے اُدھر سے کوئی صدا آئی

دلوں کے بند دریچے کُھلے، ہَوا آئی

سرک گئے تھے جو آنچل، وہ پھر سنور سے گئے

کُھلے ہُوئے تھے جو سر، اُن پہ پھر رِدا آئی

اُتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں

یہ کس کو چُھو کے مرے شہر میں صبا آئی

اُسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا

محبتوں کے سفرمیں عجب فضا آئی

کہیں رہے وہ، مگر خیریت کے ساتھ رہے

اُٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دُعا آئی

رقص میں رات ہے بدن کی طرح

رقص میں رات ہے بدن کی طرح

بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ

میرے بستر کی ہر شکن کی طرح

چاک ہے دامن قبائےِ بہار

میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح

زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں

کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح

مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں

تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح

بار ہا تیرا انتظار کیا

اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں

میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے

میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی

اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب

میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن

میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود

وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں

میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا

وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی

اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا

اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا

جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں

اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا

آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا

تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا

آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا

مٹّی کی گود کر کے ہری، پُھول کھِل چُکا

بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھر دیا ہے اور

خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا

چُھو کر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے

کیا راستے سے لَوٹنا، جب پاؤں چِھل چُکا

اُس وقت بھی خاموش رہی چشم پوش رات

جب آخری رفیق بھی دُشمن سے مِل چُکا

کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے

کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے

پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے

برف کے ہاتھ ہی، ہاتھ آئیں گے، اے موجِ ہوا

حِدتیں مجھ میں، نہ خوشبو  بدن میں، اب کے

دُھوپ کے ہاتھ میں جس طرح کُھلے خنجر ہوں

کُھردرے لہجے کی نوکیں ہیں کرن میں اب کے

دل اُسے چاہے جسے عقل نہیں چاہتی ہے

خانہ جنگی ہے عجب ذہن و بدن میں اب کے

جی یہ چاہے، کوئی پھر توڑ کے رکھ دے مجھ کو

لذتیں ایسی کہاں ہوں گی تھکن میں اب کے

نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ

نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ

کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ

روٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں

چشم پوشی کے سلیقے تھے، شکایات کے ساتھ

تجھ کو کھو کر بھی رہوں، خلوتِ جاں میں تیری

جیت پائی ہے محبت نے عجب، مات کے ساتھ

نیند لاتا ہُوا، پھر آنکھ کو دُکھ دیتا ہُوا

تجربے دونوں ہیں وابستہ ہات کے ساتھ

کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھّا مُجھ کو

دوست ہمدرد ہیں کتنے مری ذات کے ساتھ

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہُوا

کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں

بدن کو ناؤ، لُہو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا، اورلا جواب کر دے گا

اَنا پرست ہے اِتنا کہ بات سے پہلے

وہ اُٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوتِ شہرِ سخن میں وہ پُھول سا لہجہ

سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم

سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی ا پنی

تُمہاری یاد کے نام اِنتساب کر دے گا

یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے

یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے

زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے

لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے

دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے

رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے

جو کیفیت بھی جسم کو دے، انتہائی دے

شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے

آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

تخیئلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ

آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے

دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے

تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے

دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو

زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے

میں عشق کائنات میں زنجیر ہوسکوں

مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے

پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں

دشتِ بلا میں، رُوح مجھے کربلائی دے