محسن نقوی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
محسن نقوی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو - محسن نقوی

کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو
کہا تھا کِس نے، کہ مسکراؤ! اُداس لوگو


گُزر رہی ہیں گلی سے، پھر ماتمی ہوائیں
کِواڑ کھولو ، دئیے بُجھاؤ! اُداس لوگو

جو رات مقتل میں بال کھولے اُتر رہی تھی
وہ رات کیسی رہی ، سناؤ! اُداس لوگو

کہاں تلک، بام و در چراغاں کیے رکھو گے
بِچھڑنے والوں کو، بھول جاؤ! اُداس لوگو

اُجاڑ جنگل ، ڈری فضا، ہانپتی ہوائیں
یہیں کہیں بستیاں بساؤ! اُداس لوگو

یہ کِس نے سہمی ہوئی فضا میں ہمیں پکارا
یہ کِس نے آواز دی، کہ آؤ! اُداس لوگو

یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے
سرِ سناں، کوئی سر سجاؤ! اُداس لوگو

اُسی کی باتوں سے ہی طبیعت سنبھل سکے گی
کہیں سے محسن کو ڈھونڈ لاؤ! اُداس لوگو

محسن نقوی
محسن نقوی 


مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند - محسن نقوی

مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند
میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند
اس شخص سے ملنا میرا ممکن  نہیں محسن
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند

محسن نقوی
محسن نقوی 


وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی - محسن نقوی

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی

ہر ستمگر کو یہ ہمدرد سمجھ لیتی ہے
کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی

روز ملتے ہیں دریچے میں نئے پھول کھلے
چھوڑ جاتا ہے کوئی روز نشانی اپنی

تجھ سے بچھڑے ہیں تو پایا ہے بیاباں کا سکوت
ورنہ دریاؤں سے ملتی تھی روانی اپنی

قحطِ پندار کا موسم ہے سنہرے لوگو
کچھ تیز کرو اب کے گرانی اپنی

دشمنوں سے ہی اب غمِ دل کا مداوا مانگیں
دوستوں نے تو کوئی بات نہ مانی اپنی

آج پھر چاند افق پر نہیں ابھرا محسن
آج پھر رات نہ گزرے گی سہانی اپنی


محسن نقوی
محسن نقوی


شکل اس کی تھی دلبروں جيسی - محسن نقوی

شکل اس کی تھی دلبروں جيسی
خو تھی ليکن ستمگروں جيسی
اس کے لب تھے سکوت کے دريا
اس کی آنکھيں سخنوروں جيسی
ميری پرواز جاں ميں حائل ہے
سانس ٹوٹے ہوئے پروں جيسی
دل کی بستی ميں رونقيں ہيں مگر
چند اجڑے ہوئے گھروں جيسی
کون ديکھے گا اب صليبوں پر
صورتيں وہ   پيمبروں جيسی
ميری دنيا کے بادشاہوں کی
عادتيں ہيں گداگروں جيسی
رخ پہ صحرا ہيں  پياس کے محسن
دل ميں لہريں سمندروں جيسی


محسن نقوی
محسن نقوی


ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے - محسن نقوی

ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے
مگر يہ جاگتا منظر بھی خواب جيسا ہے
يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سی بات
مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے
مرا سخن بھی چمن در چمن شفق کی پھوار
ترا بدن بھی مہکتے گلاب جيسا ہے
بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے
تو زندگی کےحقائق کی تہہ ميں يوں نہ اتر
کہ اس ندی کا بہاؤ  چناب جيسا ہے
تری نظر ہی نہيں حرف آشنا ورنہ
ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کی لہر
مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے
ترے قريب بھی رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے


محسن نقوی
محسن نقوی


چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکير تھی - محسن نقوی

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکير تھی
قاتل کے ہاتھ ميں تو حنا کی لکير تھی
خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا
ميرے لبوں پہ حرف دعا کی لکير تھی
ميں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے
صحرا کی ريت پر وہ ہوا کی لکير تھی
سورج کو جس نے شب کے اندھيروں ميں گم کيا
موج شفق نہ تھی وہ قضا کی لکير تھی
گزرا ہے سب کو دشت سے شايد وہ پردہ دار
ہر نقش پا کے ساتھ ردا کی لکير تھی
کل اس کا خط ملا کہ صحيفہ وفا کا تھا
محسن ہر ايک سطر حيا کی لکير تھی

محسن نقوی
محسن نقوی


آہٹ سي ہوئي تھي نہ کوئي برگ ہلا تھا - محسن نقوی

آہٹ سی ہوئی تھی نہ کوئی برگ ہلا تھا
 ميں خود ہی سر منزل شب چيخ پڑا تھا
لمحوں کی فصيليں بھی مرے گرد کھڑی تھيں
ميں پھر بھی تجھے شہر ميں آوارہ لگا تھا
تونے جو پکارا ہے تو بول اٹھا ہوں، ورنہ
ميں فکر کی دہليز پہ چپ چاپ کھڑا تھا
پھيلی تھيں بھرے شہر ميں تنہائی کی باتيں
شايد کوئی ديوار کے پيچھے بھی کھڑا تھا
اب اس کے سوا ياد نہيں جشن ملاقات
اک ماتمی جگنو مری پلکوں پہ سجا تھا

يا بارش سنگ اب کے مسلسل نہ ہوئی تھی
يا پھر ميں ترے شہر ک راہ بھول گيا تھا
ويران نہ ہو اس درجہ کوئی موسم گل بھی
کہتے ہيں کسی شاخ پہ اک پھول کھلا تھا
اک تو کہ گريزاں ہی رھا مجھ سے بہر طور
اک ميں کہ ترے نقش قدم چوم رہا تھا
ديکھا نہ کسی نے بھی مری سمت پلٹ کر
محسن ميں بکھرتے ہوئے شيشوں کی صدا تھا


محسن نقوی
محسن نقوی



لہرائے سدا آنکھ میں پیارے تیرا آنچل - محسن نقوی

لہرائے سدا آنکھ میں پیارے تیرا آنچل
جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل
اَب تک میری یادوں میں ہے رنگوں کا تلاطَم
دیکھا تھا کبھی جھیل کنارے تیرا آنچل
لپٹے کبھی شانوں سے کبھی زُلف سے اُلجھے
کیوں ڈُھونڈھتا رہتا ہے سہارے تیرا آنچل
مہکیں تیری خوشبو سے دہکتی ہوئی سانسیں
جب تیز ہوا خود سے اتارے تیرا آنچل
آنچل میں رَچے رنگ نکھاریں تیری زلفیں
اُلجھی ہوئی زُلفوں کو سنوارے تیرا آنچل
اس وقت ہے تتلی کی طرح دوشِ ہوَا پر
اس وقت کہاں بس میں ہمارے تیرا آنچل
کاجل تیرا بَہہ بَہہ کے رُلائے مجھے اَب بھی
رَہ رَہ کے مجھے اَب بھی پکارے تیرا آنچل


محسن نقوی
محسن نقوی


آجا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا - محسن نقوی

آجا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا
آجا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے

محسن نقوی
محسن نقوی


تو نے نفرت سے جو دیکھا تو مجھے یاد آیا - محسن نقوی

تو نے نفرت سے جو دیکھا تو مجھے یاد آیا
کیسے رشتے تیری خاطر یونہی توڑ آیا ہوں
کتنے دھندلے ہیں یہ چہرے جنہیں اپنایا ہے
کتنی اُجلی تھیں وہ آنکھیں جنہیں چھوڑ آیا ہوں

محسن نقوی
محسن نقوی 





چاہیے دنیا سے ہٹ کر سوچنا - محسن نقوی

چاہیے دنیا سے ہٹ کر سوچنا
دیکھنا صحرا، سمندر سوچنا
مار ڈالے گا ہمیں اس شہر میں
گھر کی تنہائی پہ اکثر سوچنا
دشمنی کرناہے اپنے آپ سے
آئینہ خانے میں پتھر سوچنا
چاندنی، میں، تو، کنار آب جو
بند آنکھوں سے یہ منظر سوچنا
چند تشبیہیں سجانے کے لیے
مدتوں اس کے بدن پر سوچنا
ایک پل ملنا کسی سے اور پھر
اہل فن کا زندگی بھر سوچنا
چاند ہے یا اس کی پیکر کے خطوط
جھیل کی تہ میں اتر کر سوچنا
رفعت دار و عروج بام کو
دوستو نوک سناں پر سوچنا
جاگتے رستوں میں کیا کچھ کھو گیا
اوڑھ کر خواباں کی چادر سوچنا
خشک پتوں کی طرح محسن کبھی
تم بھی صحرا میں بکھر کر سوچنا


محسن نقوی
محسن نقوی


وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا - محسن نقوی

وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا
بس مجھ سے یونہی بچھڑ گیا تھا
لفظوں کی حدوں سے ماوراء تھا
اب کس سے کہوں وہ شخص کیا تھا
وہ میری غزل کا آئینہ تھا
ہر شخص یہ بات جانتا تھا
ہر سمت اُسی کا تذکرہ تھا
ہر دل میں وہ جیسے بس رہا تھا
میں اُس کی انا کا آسرا تھا
وہ مجھ سے کبھی نہ روٹھتا تھا
میں دھوپ کے بن میں جل رہا تھا
وہ سایۂ ابر بن گیا تھا
میں بانجھ رتوں کا آشنا تھا
وہ موسمِ گُل کا ذائقہ تھا
اک بار بچھڑ کے جب ملا تھا
وہ مجھ سے لپٹ کے رو پڑا تھا
کیا کچھ نہ اُسے کہا گیا تھا
اُس نے تو لبوں کو سی لیا تھا
وہ چاند کا ہمسفر تھا شائد
راتوں کو تمام جاگتا تھا
ہونٹوں میں گُلوں کی نرم خوشبو
باتوں میں تو شہد گھولتا تھا
کہنے کو جدا تھا مجھ سے لیکن
وہ میری رگوں میں گونجتا تھا
اُس نے جو کہا کیا وہ دل نے
انکار کا کس میں حوصلہ تھا
یوں دل میں تھی یاد اُس کی جیسے
مسجد میں چراغ جل رہا تھا
مت پوچھ حجاب کے قرینے
وہ مجھ سے بھی کم ہی کُھل سکا تھا
اُس دن مرا دل بھی تھا پریشاں
وہ بھی میرے دل سے کچھ خفا تھا
میں بھی تھا ڈرا ہوا سا لیکن
رنگ اُس کا بھی کچھ اُڑا اُڑا تھا
اک خوف سا ہجر کی رتوں کا
دونوں پہ محیط ہو چلا تھا
اک راہ سے میں بھی تھا گریزاں
اک موڑ پہ وہ بھی رک گیا تھا
اک پل میں جھپک گئیں جو آنکھیں
منظر ہی نظر میں دوسرا تھا
سوچا تو ٹھہر گئے زمانے
دیکھا تو وہ دور جا چکا تھا
قدموں سے زمیں سرک گئی تھی
سورج کا بھی رنگ سانولا تھا
چلتے ہوئے لوگ رُک گئے تھے
ٹھہرا ہو شہر گھومتا تھا
سہمے ہوئے پیڑ کانپتے تھے
پتّوں میں ہراس رینگتا تھا
رکھتا تھا میں جس میں خواب اپنے
وہ کانچ کا گھر چٹخ گیا تھا
ہم دونوں کا دکھ تھا ایک جیسا
احساس مگر جدا جدا تھا
کل شب وہ ملا تھا دوستوں کو
کہتے ہیں اداس لگ رہا تھا
محسن یہ غزل کہہ رہی ہے 

شائد ترا دل دُکھا ہوا تھا


محسن نقوی
محسن نقوی


میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں - محسن نقوی

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں
میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے
توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا
میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا
رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی
چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی
تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے معلوم
موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں
مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں


محسن نقوی
محسن نقوی


ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا - محسن نقوی

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوکِ سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آکر دیکھا
پیاس یادوں کو اب اس موڑ پہ لے آئی ہے
ریت چمکی تو یہ سمجھے کہ سمندر دیکھا
ایسے لپٹے ہیں دروبام سے اب کے جیسے
حادثوں نے بڑی مدت میں میرا گھر دیکھا
زندگی بھر نہ ہوا ختم قیامت کا عذاب
ہم نے ہر سانس میں برپا نیا محشر دیکھا
اتنا بے حس کہ پگھلتا ہی نہ تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پتھا دیکھا
دکھ ہی تھا ایسا کہ رویا تیرا محسن ورنہ
غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا


محسن نقوی
محسن نقوی


اُجڑے ہُوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر - محسن نقوی

اُجڑے ہُوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر

حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر

کیا جانیے کیوں تیز ہَوا سوچ میں گم ہے

خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اُڑا کر

اب دستکیں دے گا تُو کہاں اے غمِ احباب

میں نے تو کہا تھا کہ مِرے دل میں رہا کر

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے

تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے

ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گِرا کر

برہم نہ ہو کم فہمی کوتہ نظراں پر 

اے قامتِ فن اپنی بلندی کا گِلا کر

اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے

تُو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر

میں مر بھی چکا، مل بھی چکا موجِ ہوا میں

اب ریت کے سینے پہ مِرا نام لکھا کر

پہلا سا کہاں اب مِری رفتار کا عالم

اے گردشِ دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر

اِس رُت میں کہاں پھول کھلیں گے دلِ ناداں

زخموں کو ہی وابستۂ زنجیرِ صبا کر

اِک رُوح کی فریاد نے چونکا دیا مجھ کو

تُو اب تو مجھے جسم کے زنداں سے رہا کر

اِس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن

دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر


محسن نقوی
محسن نقوی


منسوب تھے جو لوگ میری زندگی کے ساتھ - محسن نقوی

منسوب تھے جو لوگ میری زندگی کے ساتھ
اکثر وہی ملے ہیں بڑی بے رُخی کے ساتھ
یوں تو مَیں ہنس پڑا ہُوں تمہارے لیے مگر
کتنے ستارے ٹوٹ پڑے اِک ہنسی کے ساتھ
فرصت مِلے تو اپنا گریباں بھی دیکھ لے
اے دوست یوں نہ کھیل میری بے بسی کے ساتھ
مجبوریوں کی بات چلی ہے تو مئے کہاں
ہم نے   پِیا ہے زہر بھی اکثر خوشی کے ساتھ
چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
اتنا بُرا سلوک میری سادگی کے ساتھ
اِک سجدۂ خلوص کی قیمت فضائے خلد
یاربّ نہ کر مذاق میری بندگی کے ساتھ
محسن کرم بھی ہو جس میں خلوص بھی
مجھ کو غضب کا پیار ہے اُس دشمنی کے ساتھ


محسن نقوی
محسن نقوی