مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند
میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند
اس شخص سے ملنا میرا ممکن نہیں محسن
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند
Bht khoob
جواب دیںحذف کریںaslam.o.alykum is web ka admin kon he mujhse rabta kren mera facebook i.d
جواب دیںحذف کریںwww.facebook.com/saqib.saeed65
بہت خوب
جواب دیںحذف کریںWow... like it.
جواب دیںحذف کریںWow... like it.
جواب دیںحذف کریںآخری شعر کچھ بے وزن لگتا ہے۔لفظ محسن ٹھیک نہیں شاےد
حذف کریںٹھیک کہا آپ نے
حذف کریںٹھیک کہا آپ نے
حذف کریںاس شعر کو پڑھنے کا انداز بدل ڈالو آپ کو ٹھیک لگے گا.
حذف کریںاس شعر کو پڑھنے کا انداز بدل ڈالو آپ کو ٹھیک لگے گا.
حذف کریںBhai jan in second last verse mohsin should come in start..
حذف کریںKiu k ghazal hi muhsin ki nhi hy
حذف کریںاس شخص سے ملنا میرا ممکن نہیں محسن
حذف کریںخوب کہا ہے
جواب دیںحذف کریںواہ صاحب کیا کہنے
جواب دیںحذف کریںارے واہ.
جواب دیںحذف کریںاب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند.
میرے خیال سے یہ بات بالکل ٹھیک ہے ہر ایک کو اپنے خیال کا اظہار کرتے کا حق حاصل ہے۔شکریہ
حذف کریںواہ
جواب دیںحذف کریںبہت خوب
جواب دیںحذف کریںواه کيا بات ہ
جواب دیںحذف کریںواہ مگر آخری شعر میں یا تو محسن رہنے ديں یا میرا ..
جواب دیںحذف کریںیہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںیہ کلام محسن نقوی کا لگتا ہی نہیں اس کلام میں املاء کی بھی کافی غلطیاں ہیں۔ وزن بھی درست نہیں
جواب دیںحذف کریںاگر محسن نقوی کا ہے تو کچھ یوں تو ہوسکتا ہے
*************************************
مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند
میں اس میں بھٹکتے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
جس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند
اس شخص سے محسن میرا ملنا نہیں ممکن
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند
Ye ghazal muhsin ki nhi dore hazir k kisi shayar ki lagti hy
حذف کریںمحسن اسے سمجھاؤ کہ اب رحم کرے وہ
جواب دیںحذف کریںدکھ بانٹتا پھرتا ہے وہ سوغات کی مانند
بہت خوب جناب
جواب دیںحذف کریںنوید اس کو سمجھاٶ کہ اب رحم کرے کچھ
جواب دیںحذف کریںدکھ بانٹتا پھرتا ہے وہ خیرات کی مانند
نوید عباس شاعر ہیں محسن نقوی نہیں
یہ غزل نوید عباس شاہد صاحب کی ہے محسن نقوی صاحب کی نہیں ہے
حذف کریںجی بالکل یہ غزل نوید کی ہے اور کئی بار مختلف ادبی کتابچوں میں چھپ چکی اور محسن صاحب کے ساتھ اگر اسے منصوب کیا جارہا ہے تو حوالہ درکار ہے؟
حذف کریںبہت خوب
جواب دیںحذف کریںوہ میرے صدقے دیتا ہے.
جواب دیںحذف کریںہاے میں صدقے اس کے. 🔥
ضروری تو بہت کچھ ہے
جواب دیںحذف کریںمحترمہ
عزت جانے کا ڈر ہے🔥🔥 is poetry Ka jawb dy do
جیویں
جواب دیںحذف کریںمحسن, بڑے شاعر تھے لیکن یہاں آخری شعر میں انکا نام زبردستی لگایا گیا ھے۔
جواب دیںحذف کریں