سعد اللہ شاہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سعد اللہ شاہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا

سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا
جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا
میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں
پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا
میں زندگی کے ہر اک مرحلے سے گزرا ہوں
کبھی میں خار بنا اور کبھی گلاب ہوا
سمندروں کا سفر بھی تو دشت ایسا تھا
جسے جزیرہ سمجھتے تھے اک سراب ہوا
وہ پوچھتا تھا کہ آخر ہمارا رشتہ کیا
سوال اس کا مرے واسطے جواب ہوا
ہماری آنکھ میں دونوں ہی ڈوب جاتے ہیں
وہ آفتاب ہوا یا کہ ماہتاب ہوا
نہ اپنا آپ ہے باقی نہ سعد یہ دنیا
یہ آگہی کا سفر تو مجھے عذاب ہوا

مجھ سا جہان میں نادان بھی نہ ہو

مجھ سا جہان میں نادان بھی نہ ہو
کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو
کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا ضرور ہے
بِن میرے شائد آپ کی پہچان بھی نہ ہو
آشفتہ سر جو لوگ ہیں مشکل پسند ہیں
مشکل نہ ہو جو کام تو آسان بھی نہ ہو
محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا
لیکن یہ کیا کہ دل میں یہ ارمان بھی نہ ہو
خوابوں سی دلنواز حقیقت نہیں کوئی
یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو
رونا یہی تو ہے کہ اسے چاہتے ہیں ہم
اے سعد جس کے ملنے کا امکان بھی نہ ہو



ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو

ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو
یہ بھی کافی نہیں‌ظالم کی پشیمانی کو

کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں‌جو ہم نے
آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو

شیشہء شوق پہ تُو سنگِ ملامت نہ گرا
عکسِ گل رنگ ہی کافی ہے گراں جانی کو

تُو رکے یا نہ رکے فیصلہ تجھ پر چھوڑا
دل نے در کھول دئیے ہیں‌تری آسانی کو

دامنِ چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی
دیکھ اے دوست مری بے سر و سامانی کو

ہاں مجھے خبط ہے سودا ہے جنوں ہے شاید
دے لو جو نام بھی چاہو مری نادانی کو

جس میں مفہوم ہو کوئی نہ کوئی رنگِ غزل
سعد جی آگ لگے ایسی زباں دانی کو

تمہاری یاد کا اب تک چراغ جلتا ہے

تمہاری یاد کا اب تک چراغ جلتا ہے
عجیب شدتِ غم ہے کہ داغ جلتا ہے
میں پھول پھول بچاتا جھلس گیا آخر
عجیب رت ہے کہ سارا ہی باغ جلتا ہے
خدا کے واسطے روکو نہ مجھ کو رونے دو
وگرنہ شعلۂ دل سے دماغ جلتا ہے
میں تیز اڑان میں جاتا ہوں آسماں کی طرف
مگر یہ جسم کہ پیشِ سراغ جلتا ہے
شباب چیز ہے ایسی کہ اُف مری توبہ !
کہ جیسے رنگ سے مے کے ایاغ جلتا ہے
گرمی ہے سعد وہی برق آسمانوں سے
کہ جس سے شعلہ نکلتا ہے زاغ جلتا ہے

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا ساری کہانی ختم ہوئی

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا ساری کہانی ختم ہوئی
تم نے جب احساس دلایا ساری کہانی ختم ہوئی
تم ہی نہیں ہو دشمن اپنے ہم بھی ہیں کچھ ایسے ہی
ہم نے خود جب دل کو جلایا ساری کہانی ختم ہوئی
ساری باتیں ٹھیک تھیں تیری تو میرا میں تیرا تھا
اور مفاد جہاں ٹکرایا ساری کہانی ختم ہوئی
دھوپ کے ساتھ تھا سایہ اپنی جو اپنی پہچان بنا
شام ہوئی تو چھپ گیا سایہ ساری کہانی ختم ہوئی
باغِ ارم میں تنہا تھے ہم اپنی فکر و فہم کے ساتھ
آنچل جب کوئی لہرایا ساری کہانی ختم ہوئی
ہم دنیا کو ٹھکرا دیتے لیکن ہم سے دیر ہوئی
ہم کو دنیا نے ٹھکرایا ساری کہانی ختم ہوئی

کتنی آوازیں ہیں جن سے میں نہیں بچ سکتا

کتنی آوازیں ہیں جن سے میں نہیں بچ سکتا
ایسے لگتا ہے کہ محفوظ ہے سب کچھ سر میں
کچھ بھی سوچو وہ سماعت پہ گراں لگتا ہے
ہر گھڑی بنتا بگڑتا یہ مکاں لگتا ہے
سال خوردہ سا ہر اک جذبہ جواں لگتا ہے
ایک پتھر سا تہِ آب رواں لگتا ہے
جتنا ظاہر ہے وہ اتنا ہی نہاں لگتا ہے
اور پھر تیر سا لگتا ہے کلیجے میں میرے
اس کا ابرو مجھے اب تک بھی کماں لگتا ہے
ایک پتلی پہ سمٹتا یہ جہاں لگتا ہے
سعد مانو کہ حقیقت نہیں مر سکتی کبھی
اس حقیقت کے قریں میرا گماں لگتا ہے
کوئی بارش سی اتر آتی ہے سینے پہ میرے
بھر جدائی کا وہی پہلا سماں لگتا ہے

ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو

ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو
یہ بھی کافی نہیں‌ظالم کی پشیمانی کو
کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں‌جو ہم نے
آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو
شیشہء شوق پہ تُو سنگِ ملامت نہ گرا
عکسِ گل رنگ ہی کافی ہے گراں جانی کو
تُو رکے یا نہ رکے فیصلہ تجھ پر چھوڑا
دل نے در کھول دئیے ہیں‌تری آسانی کو
دامنِ چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی
دیکھ اے دوست مری بے سر و سامانی کو
ہاں مجھے خبط ہے سودا ہے جنوں ہے شاید
دے لو جو نام بھی چاہو مری نادانی کو
جس میں مفہوم ہو کوئی نہ کوئی رنگِ غزل
سعد جی آگ لگے ایسی زباں دانی کو