![]() |
| ناصر کاظمی |
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے - ناصر کاظمی
تیرے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی - ناصر کاظمی
تیرے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تُو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
انہیں بھی دیکھ جنہیں راستے میں نیند آئی
پکار اے جرسِ کاروانِ صبح طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِراہ خاک اڑانے کو
مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
دل افسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی
کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہر رعنائی
پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی
پھر شامِ وصالِ یار آئی - ناصر کاظمی
نصیب عشق دلِ بےقرار بھی تو نہیں - ناصر کاظمی
صدائے رفتگاں پھر دل سے گزری - ناصر کاظمی
نازِ بیگانگی میں کیا کچھ تھا - ناصر کاظمی
ترے ملنے کو بے کل ہو گئے ہیں - ناصر کاظمی
گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال
بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے
ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا
یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہلِ دنیا نے
بقدرِ تشنہ لبی پرسشِ وفا نہ ہوئی
چھلک کے رہ گۓ تیری نظر کے پیمانے
خیال آ گیا مایوس رہ گزاروں کا
پلٹ کے آ گۓ منزل سے تیرے دیوانے
کہاں ہے تو کہ ترے انتطار میں اے دوست
تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے
امیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصر
جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے
عشق میں جیت ہوئی یا مات
عشق میں جیت ہوئی یا مات
آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات
یوں آیا وہ جانِ بہار
جیسے جگ میں پھیلے بات
رنگ کھُلے صحرا کی دھوپ
زلف گھنے جنگل کی رات
کچھ نہ کہا اور کچھ نہ سُنا
دل میں رہ گئی دل کی بات
یار کی نگری کوسوں دور
کیسے کٹے گی بھاری رات
بستی والوں سے چھپ کر
رو لیتے ہیں پچھلی رات
سنّاٹوں میں سنتے ہیں
سُنی سُنائی کوئی بات
پھر جاڑے کی رت آئی
چھوٹا دن اور لمبی رات
کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اِک بار جو آئے پھر نہ آئے
اُس پیکرِ ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آئے تو سُنائے
وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈھ لائے
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھتھرائے
مہکی ہوئی سانس نرم گفتار
ہر ایک روش پہ گل کلکھلائے
راہوں پہ ادا ادا سے رقصاں
آنچل میں حیا سے منہ چھپائے
اڑتی ہوئی زلف یوں پریشاں
جیسے کوئی راہ بھول جائے
کچھ پھول برس پڑے زمیں پر
کچھ گیت ہوا میں لہلہائے
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی - ناصر کاظمی
![]() |
| ناصر کاظمی |
کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے - ناصر کاظمی
![]() |
| ناصر کاظمی |
سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں
دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں
وہ ستارہ تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
اک صورت تھی عجب یاد نہیں
ایسا الجھا ہوں غمِ دنیا میں
ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں
بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد ائیں بھی تو سب یاد نہیں
یہ حقیقت ھے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے کہ اب یاد نہیں
یاد ھے سیرِ چراغاں ناصر
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج میرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
میرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
تیرے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
میرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی کبھی جو تیری قرب میں گزارے تھے
اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں
گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
مجھے یہ ڈر ہے تیری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت میری اداس نہیں
سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
دل کی آواز سنا دی ہم نے
پہلے اک روزنِ در توڑا تھا
اب کے بنیاد ہلا دی ہم نے
پھر سرِ صبح وہ قصہ چھیٹرا
دن کی قندیل بجھا دی ہم نے
آتشِ غم کے شرارے چن کر
آگ زنداں میں لگا دی ہم نے
رہ گئے دستِ صبا کملا کر
پھول کو آگ پلا دی ہم نے
آتشِ گل ہو کہ ہو شعلۂِ ساز
جلنے والوں کو ہوا دی ہم نے
کتنے ادوار کی گم گشتہ نوا
سینۂِ نَے میں چھپا دی ہم نے
دمِ مہتاب فشاں سے ناصر
آج تو رات جگا دی ہم نے
یاد آتا ہے روز و شب کوئی - ناصر کاظمی
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا - ناصر کاظمی
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی - ناصر کاظمی
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آرہی ہے ابھی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
![]() |
| ناصر کاظمی |




